خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 715
خطبات طاہر جلد 17 715 خطبہ جمعہ 16اکتوبر 1998ء ہے مگر یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ مرنے کے بعد ضرور خدا ہمیں بلائے گا۔وہ ہوتے کون ہیں جو یہ یقین کر سکیں کہ اللہ ہمیں ضرور بلائے گا۔پس الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلْقُوا رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ - اب اس بات کا تو یقین ہے کہ اس کی طرف لوٹ جائیں گے مگر یہ ضروری نہیں کہ لقاء کے لحاظ سے لوٹیں گے یعنی پیار و محبت کی ملاقات کے لحاظ سے ، وہ تو اس کی مرضی ہے مگر لوٹنے کا یقین ضرور رکھتے ہیں اور اس یقین کی وجہ سے خشیت پیدا ہوتی ہے۔لقاء کے اعلیٰ درجہ کے معنوں کے لحاظ سے نہیں مگر پیشی کے لحاظ سے کہ مجھے پیش ضرور ہونا ہے۔ان کے دل میں بہت خشیت پیدا ہوتی ہے اور وہ ڈرتے رہتے ہیں اور عاجزانہ اس کی راہوں پہ بچھتے چلے جاتے ہیں کہ ہمارا حساب آسان ہو جائے۔یہ آیات کریمہ ہیں جن کی براہ راست یا اشارہ تشریح حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے مختلف اقتباسات میں فرمائی ہے یعنی مختلف تحریروں میں یا ملفوظات میں فرمائی ہے جن میں سے اقتباس لئے گئے ہیں۔پہلا اقتباس ضمیمہ براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد 21 مطبوعہ لندن صفحہ 189 سے لیا ہے۔خشوع کی حالت اس وقت تک خطرہ سے خالی نہیں جب تک کہ رحیم خدا سے تعلق نہ پکڑ لے۔“ اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں جیسا کہ میں بارہا توجہ دلا چکا ہوں بہت غور سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔رحمن سے تعلق تو ذہن میں از خود اُبھرتا ہے اور ایک عام انسان یہی خیال کرے گا کہ لفظ رحمن ہونا چاہئے نہ کہ رحیم خشوع کی حالت اس وقت تک خطرے سے خالی نہیں جب تک کہ رحیم خدا سے تعلق نہ پکڑ لے۔رحمن کو چھوڑ کر جو اول صفت ہے جس میں سب سے زیادہ مخلوقات سے تعلق کا اظہار ہے اس کو چھوڑ کر جو رحیم کو اخذ فرمایا گیا اس میں گہری حکمت ہے جو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود کھول رہے ہیں۔رحیم عمل کی جزاء دیا کرتا ہے اور بدعمل کی بد جزاء بھی دیا کرتا ہے تو اگر چہ رحیم میں چونکہ رحم کا مضمون ہے اس لئے یہ تو ہو سکتا ہے کہ نیک عمل کی بہت زیادہ جزاء دے مگر رحیم میں چونکہ عمل کی جزاء کا عمومی مفہوم داخل ہے اس لئے بد عمل کی اتنی جزاء ضرور دے گا جتنا بدعمل ہو۔تو بدیاں اتنی ہی سزا کی مستحق ٹھہریں گی، اتنی ہی سزا کی سزاوار ٹھہریں گی جتنی سی بدی ہے اور یہ رحیمیت کے نتیجہ میں ہوا کرتا ہے۔جزاء سزا کا سارا عمل جو ہم اس دُنیا میں دیکھتے ہیں یہ تمام نظام رحیمیت کے نتیجہ سے تعلق رکھتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: