خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 714
خطبات طاہر جلد 17 714 خطبہ جمعہ 16اکتوبر 1998ء حالانکہ لغات کی کتب قرآن کریم کی اسی آیت کے حوالہ سے یقین رکھتے ہیں“ کا ترجمہ پیش کرتی ہیں۔(المنجد فی اللغۃ زیر لفظ ظن) یہ اس معروف مسلمہ ترجمہ سے جس کو مسلمان اہل لغت پیش کرتے ہیں میں نے کن معنوں میں احتراز کیا ہے۔یہ میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں۔قرآن کریم کے نزول سے پہلے عربوں میں بعض محاورے رائج تھے اور ظن کا محاورہ اُمید یا توقع کے معنوں میں استعمال ہوا کرتا تھا یقین کے معنوں میں نہیں مگر جو اہل اللہ جانتے ہیں کہ انہوں نے لازماً پیش ہونا ہے اس لئے وہ اللہ کے سامنے پیش ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔اس پہلو سے اس کا ترجمہ یقین ، قطعی اور لازمی ہے لیکن پیش ہونے پر یقین رکھنا اور ہے اور لقاء پر یقین رکھنا اور ہے۔لقاء کا ایک معنی ہے اس کے دربار میں ہمیں رسائی ہوگی ، ہم اس سے ملاقات کریں گے یعنی ایک مجرم کے طور پر نہیں بلکہ یہ توقع رکھتے ہوئے کہ وہ ہم پر پیار کی نگاہ ڈالے گا اور ہمیں لقاء باری تعالیٰ ایسے نصیب ہوگی جیسے بعض دفعہ بادشاہ کسی کو اجازت دے دیتے ہیں کہ ان کے دربار تک پہنچے۔تو لقاء کے دو معنی ہیں جسے یاد رکھنا چاہئے بعض لوگوں کو پیشی کے لئے بلایا جاتا ہے تا کہ ان کی جواب طلبی ہو اس کو لقاء ان معنوں میں نہیں کہہ سکتے جس میں محبت اور چاہت اور اعزاز کا مضمون ہے۔اور ایک لقاء ہے جسے دیدار کرانا مقصود ہوا کرتا ہے یعنی لقاء سے مراد ہے اللہ ا پنا دیدار کرواتا ہے اور ان کا دیدار کرتا ہے۔تو یہ وجہ ہے کہ یظنون کا لفظ یہاں میرے نزدیک اول معنی وہی رکھتا ہے جو ظن کے معنی ہیں اور اس میں ایک حکمت ہے۔مومن اپنے اعمال کے اعتبار سے کبھی بھی یقین نہیں کرتے کہ وہ ضرور بخشے جائیں گے۔وہ اپنے نفس کو جانتے ہیں، اپنی کمزوریوں کو بھی جانتے ہیں مگر جتنا زیادہ بڑا اہل اللہ ہوگا اتنا ہی زیادہ اس میں انکساری پائی جائے گی۔اس لئے وہ لقاء کی امید تو بہت رکھتے ہیں لیکن یہ گمان ہے کہ اللہ ہمیں اپنے لقاء کا موقع عطا فرمائے گا۔یقین میں ایک قسم کا استکبار بھی پیدا ہو جاتا ہے، ایک قسم کا تکبر بھی ہوتا ہے کہ ہم ! ہم تو اتنے اعلیٰ لوگ ہیں یہ ہو کیسے سکتا ہے کہ اللہ ہمیں لقاء نہ بخشے اور ان معنوں میں کہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ خدا سے ضرور ملیں گے یہ ہو ہی نہیں سکتا۔حضرت اقدس محمد مصطفی صلی للہ یتیم سے بڑھ کر عارف باللہ کوئی نہیں تھا مگر اپنی بخشش کے متعلق فرماتے ہیں کہ اللہ کے فضل ہی سے بخشا جاؤں گا تو یہ انکسار کی انتہاء ہے جس کے نتیجے میں لفظ یقین یہاں اطلاق نہیں پاتا۔اُمید تو بہت رکھتے ہیں، خواہش بہت ہے، حرص ہے دل کو ، ان معنوں میں ظن