خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 713
خطبات طاہر جلد 17 713 خطبہ جمعہ 16اکتوبر 1998ء کے دو معانی ہیں جو بیک وقت موجود ہیں۔ب کا مطلب ایک تو یہ بنتا ہے کہ صبر کی ہی دعا مانگو اور نماز کی دعا مانگو اور دوسرا معنی یہ ہے کہ صبر کے ساتھ دعا مانگو اور نماز کے ساتھ دعا مانگو۔عموماً مترجمین یہ دوسرا معنی اختیار کر لیتے ہیں حالانکہ یہ دونوں بیک وقت مراد ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہوتے ہیں۔صبر کے لئے دعا مانگنا اور صبر کے ساتھ دعا مانگنا یہ دونوں چیزیں لازم و ملزوم ہیں۔اگر صبر کے لئے دعا مانگی جائے تو جب تک صبر کے ساتھ دعا نہ مانگی جائے اس دعا کے مقبول ہونے کے امکانات دور کے ہو جاتے ہیں یعنی بعض دفعہ جلدی بھی دعا قبول ہو جاتی ہے مگر بسا اقات انسان آزمایا جاتا ہے اور اگر اس کی واقعہ نیت ہے کہ وہ ایک چیز کو اللہ سے چاہتا ہے تو پھر اسے پکڑ بیٹھے اور یہ مضمون ہے بالصبر صبر کرو اور جو نیکی کی دعا تم مانگ رہے ہو اگر تم اس میں واقعہ سچے ہو ، اسی کو پسند کرتے ہو اس نیکی کی دعا ہمیشہ مانگتے رہو کیونکہ وہ تو کسی حال میں بھی بے ضرورت نہیں رہتی۔نیکی کی تو ہر وقت ضرورت رہتی ہے۔پس نیکی پر صبر کرنا اور نیکی پر صبر کرنے کے لئے دعا پر صبر کرنا کہ اللہ ہمیں نیکی عطا فرمائے یہ ایک ہی چیز کے دو معنی ہیں۔ایک معنی کے دو الفاظ ہیں۔والصلوۃ اور نماز پر یہی صبر والا حکم عائد ہوتا ہے۔پس اس کو پیش نظر رکھنا بہت ضروری ہے کہ ہم جو نمازیں پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور نیکیوں کو مضبوطی سے اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ ممکن نہیں ہے جب تک پورے خلوص نیت کے ساتھ ہم اس کے لئے دعا نہ کرتے رہیں اور دعا کی وجہ یہ بیان فرمائی وَ إِنَّهَا لَكَبِيرَةُ إِلَّا عَلَى الخشعِينَ : کہ یہ نیکی اور نماز پر صبر کرنا اور صبر کے ساتھ نماز پڑھنا اور نماز کی دعا کرنا یہ بذات خود وَإِنَّهَا لكَبِيرَة : بہت بڑی بات ہے، بہت مشکل کام ہے الا عَلَى الْخَشِعِينَ : سوائے ان لوگوں کے جو خشوع کرتے ہیں۔تو قرآن کریم کی آیات کا پہلا حصہ دوسرے کی تشریح کر رہا ہوتا ہے اور دوسرا حصہ پہلے کی تشریح کر رہا ہوتا ہے اور ان دونوں کے درمیان ایک اٹوٹ جوڑ ہوا کرتا ہے ، نہ ٹوٹنے والا ایک رشتہ ہے۔وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةُ إِلَّا عَلَى الْخَشِعِينَ اور خشوع کی وجہ پھر اگلی آیت میں بیان فرما دی گئی۔خَاشِعِین پر نہ صبر بھاری ہے، نہ نماز بھاری ہے۔مگر خاشعین ہوتے کون ہیں؟ الَّذِيْنَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلْقُوا دهم : جو یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ضرور ملنے والے ہیں وَ أَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ: اور یقیناً وہ اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔یہاں یظنون کا ترجمہ میں نے یہ گمان کرتے ہیں کیا ہے