خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 711
خطبات طاہر جلد 17 711 خطبہ جمعہ 16اکتوبر 1998ء کچی روح کے ساتھ خدا کے حضور عرق ندامت کا گرایا ہوا ایک قطرہ رحمتوں کی موسلا دھار بارشوں میں بدل جاتا ہے (خطبه جمعه فرموده 16 اکتوبر 1998ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ کی تلاوت کی: ا تَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَبَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ وَ إِنَّهَا لَكَبِيرَةُ إِلَّا عَلَى الخشِعِينَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلْقُوا رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَجِعُونَ۔پھر فرمایا: (البقرة:45 تا 47) سورة البقرة آیات 45 تا 47 ہیں جن کی میں نے تلاوت کی ہے۔ان آیات میں سے پہلی آیت خصوصیت کے ساتھ یہود علماء کو مخاطب ہے۔اتأمرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَب میں یہود عامتہ الناس پیش نظر نہیں یعنی بطور خاص پیش نظر نہیں مگر یہود علماء پیش نظر ہیں کیونکہ تتلون الكتب جملہ بتا رہا ہے کہ وہ یہودی جو کتاب پڑھا کرتے تھے اور عموماً یہود عوام الناس ان کتاب پڑھنے والوں ہی سے ہدایت مانگا کرتے تھے اس لئے خصوصیت سے اہل کتاب کے علماء مراد ہیں مگر جو ان کی صفات بیان کی گئی ہیں وہ صفات جب بھی جس قوم کے علماء پر اطلاق پائیں گی وہ سارے مراد ہوں گے۔قرآن کریم تاریخ سے سبق لینے کے لئے یہ طریق اختیار