خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 709
خطبات طاہر جلد 17 709 خطبہ جمعہ 9 اکتوبر 1998ء اب دیکھیں صرف دعا سے کمزوریاں دور کرنے کی کوشش کرنا بے معنی اور لغو ہے ۔ جب تک انسان پوری کوشش سے ، اپنی محنت سے خود برائیاں دور کرنے کے لئے جد و جہد نہ کرے۔ پس وہی لوگ سعی کرنے والے ہیں جو جہاں تک ان میں طاقت ہے وہ اپنی برائیاں دور کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ فرمایا: ” جہاں عاجز آجاؤ۔ اب ہر انسان جانتا ہے کہ کئی برائیاں ہیں جو اس کا پیچھا نہیں چھوڑتیں وہ بہت کوشش کرتا ہے، بہت محنت کرتا ہے کہ ان سے نجات پائے مگر ایک موقع پر جا کے عاجز آ جاتا ہے۔ کچھ پیش نہیں جاتی وہ برائی ہے کہ چھوڑتی ہی نہیں، چمٹ جاتی ہے۔ فرمایا اس وقت صدق اور یقین سے ہاتھ اٹھاؤ ۔ یہ جانتے ہوئے کہ تم عاجز آگئے ہو اللہ عاجز نہیں آسکتا۔ یہ کامل یقین ہو کہ اللہ کسی چیز سے عاجز نہیں آ سکتا ۔ اُس وقت انسان جب یہ سمجھے کہ میں عاجز آ گیا تو اس کے نتیجہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمارہے ہیں کہ اس کے دل میں خشوع پیدا ہو گا اور واقعہ ایک انسان پورے خلوص نیت سے ایک چیز سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کر رہا ہو اور وہ پیچھا ہی نہ چھوڑ رہی ہو تو عاجز آ جاتا ہے ۔ اس وقت اس کے دل سے ایک بے قراری کی دعا اٹھتی ہے اسی بے قراری کا نام خشوع ہے۔ اب ایک شخص کا ایک کتا پیچھا کر رہا ہے اور چھوڑتا ہی نہیں ۔ کوئی اور بلا پیچھے لگی ہوئی ہے جو اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی ، وہ مڑ مڑ کے دیکھتا بھی ہے۔ کبھی چھپ جاتی ہے کبھی پھر پیچھے تو جب کچھ پیش نہ جائے پھر اس کے دل میں خشوع پیدا ہوگا، خوف بھی پیدا ہوگا اور انکساری اور عاجزی بھی پیدا ہوگی کہ کیا یا مصیبت میرے گلے پڑ گئی ہے۔ بیماریوں کا بھی یہی حال ہے۔ بعض لوگ اپنی بیماریوں سے واقف نہیں ہوتے اس لئے ان کے دل میں خشوع نہیں پیدا ہوتا مگر بیماری اندر اندر ان کا پیچھا کرتی چلی جاتی ہے۔ چنانچہ جب وہ بیماری کو پیچھا کرتے ہوئے دیکھ لیتے ہیں اکثر اس وقت بیماری ان پر غالب آچکی ہوتی ہے وہ وقت ہے خشوع کا، وہی وقت ہے جب وہ دعاؤں کے لئے بھی لکھتے ہیں۔ مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو مضمون بیان فرمایا ہے اس میں بیماری سے پہلے، پہلے اس کے کہ وہ بڑھ چکی ہوا اپنی طرف سے کوشش کر کے اس سے پیچھا چھڑانا بھی شامل ہے اور اگر وہ غالب آ ہی چکی ہو جب کچھ پیش نہ جائے اس وقت جو درددل سے اٹھی ہوئی دعا ہے وہ قبول ہو گی اگر صدق اور ایمان ہو۔ اب ایسے بہت سے بیمار مجھے بھی خط لکھتے ہیں کہ بہت درد دل سے دعائیں کی