خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 708 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 708

خطبات طاہر جلد 17 708 خطبہ جمعہ 9اکتوبر 1998ء نہ ہو وہ سوچ نہیں سکتا کہ یہاں حرکت سے کیا مراد ہے۔پس ان معنوں کی رو سے مومن کا نماز میں خشوع اختیار کرنا فوز مرام کے لئے پہلی حرکت ہے۔فوز مرام کی خواہش تو سب کے دل میں ہے مگر خشوع کے بغیر اس کی طرف حرکت نہیں پیدا ہوتی۔پس یہ پہلی حرکت ہے۔جس کے ساتھ تکبر اور جب وغیرہ چھوڑنا پڑتا ہے۔“ اب یہ جو حرکت ہے اسے روکنے کے لئے مجب : اپنے نفس کی ، اپنی ذات پسند، اپنی نگاہوں میں اپنی ذات کو اچھا سمجھنا اور تکبر : دوسروں کے مقابل پر اپنے آپ کو اچھا سمجھنا۔تو دونوں پہلو جو ہیں ان کو چھوڑے بغیر یہ حرکت اس کو اجازت نہیں دے گی کہ اللہ کی طرف بڑھے۔گویاز نجیریں ہیں پاؤں میں، رسیوں سے باندھی ہوئی چیز ہے وہ جانا چاہے بھی تو جا نہیں سکتی۔تو فرمایا، یا درکوفوز مرام کی طرف جب حرکت نصیب ہو تو ان بندھنوں کو توڑ دیا کرو۔اس کے بعد اگر عجب اور تکبر باقی رہا تو م واپس اپنے پہلے حال کی طرف چلے جاؤ گے اور یہ حرکت تمہیں کچھ بھی فائدہ نہیں دے گی۔فرمایا یہ وہ چیز ہے کہ : انسان کا نفس خشوع کی سیرت اختیار کر کے خدائے تعالیٰ سے تعلق پکڑنے کے لئے مستعد اور تیار ہو جاتا ہے۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ:230) اب خشوع عارضی بھی ہوا کرتا ہے ، حرکت بھی پیدا ہوتی ہے مگر اگر وہ سیرت نہ بن جائے ، انسان کی فطرت میں خشوع نہ پیدا ہو جائے تو وہ اس کا ساتھ چھوڑ دیا کرتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بعض دوسری مثالوں سے تفصیل کے ساتھ اس مضمون کو بیان فرمایا ہے کہ خشوع سے خوش نہ ہو جاؤ کہ کوئی لمحہ تمہیں خشوع کا نصیب ہوا بعید نہیں کہ تم نے اگر تکبر اور عجب سے خلاصی نہ پائی تو یہ دونوں چیزیں تمہیں واپس کھینچ کے اس جمود کی حالت کی طرف لے جائیں گی کہ پھر خدا کی طرف تمہیں حرکت نصیب نہیں ہوگی۔مستعد اور تیار ہو جاتا ہے۔ایسے حال میں کہ وہ اس کی فطرت کا حصہ بن جاتا ہے ہر وقت تیار رہتا ہے کہ کوئی بھی بہانہ ملے تو اللہ کی طرف حرکت کر جائے۔ملفوظات جلد اوّل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ فرمان درج ہے: ” خدا تعالیٰ سے مدد مانگو اور اپنی پوری طاقت اور ہمت سے اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرو۔جہاں عاجز آ جاؤ، وہاں صدق اور یقین سے ہاتھ اُٹھاؤ۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ : 93/رپورٹ جلسہ سالانہ 1897 مرتبہ شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب صفحہ :164)