خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 707 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 707

خطبات طاہر جلد 17 707 خطبہ جمعہ 9اکتوبر 1998ء اب یہ معنی بالعموم علماء کے ذہن میں آتے ہی نہیں۔کہ یہ تو ایک لازم کا صیغہ ہے متعدی کا بھی ہوسکتا ہے مگر مجہول نہیں مگر افلح کے معنی مجہولیت کے لحاظ سے بھی لئے گئے ہیں اور اہل لغت اس کی تصدیق کرتے ہیں۔پس افلح کا مطلب ہے ایسے مومن نجات پاگئے جن کے دل اللہ نے پھیر دئے ، جن کے دلوں کو اللہ نے نجات کی خاطر تبدیل فرما دیا۔تو اللہ ہی ہے جو دلوں میں خوف خدا پیدا فرماتا ہے اور اللہ ہی دلوں کو نجات کی خاطر نجات کے لئے پھیرتا ہے۔یہ ایک نیا مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ضمیمہ براہین احمدیہ میں بیان فرمایا۔فرماتے ہیں: أصِيرَ الى الفلاح یعنی فوز مرام کی طرف پھیرا گیا۔( فلاح بھی وہ کہ اس سے بڑھ کر، اس سے اعلیٰ نجات کا تصور ممکن نہیں ) پھیرا گیا اور حرکت دیا گیا۔“ اب کیسا خوبصورت کلام ہے۔صرف پھیرا ہی نہیں گیا اس کی طرف بڑھنے کے لئے تحریک بھی کر دی گئی ورنہ ایک انسان ایک اچھی چیز کو دیکھتا ہے بعض دفعہ پسند بھی کرتا ہے مگر اس کی طرف جاتا نہیں اور بندھن ہیں جو اس کو روک دیتے ہیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ بہت ہی لطیف، عارفانہ کلام پر مشتمل ہوتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں: ”فوز مرام کی طرف پھیرا گیا اور حرکت دیا گیا۔یہ حرکت اللہ کے فیض کے سوا انسان کو مل ہی نہیں سکتی۔پس ان معنوں کی رو سے مومن کا نماز میں خشوع اختیار کرنا فوز مرام کے لئے پہلی حرکت ہے۔“ اب حرکت کی خشوع کے ذریعہ تعریف فرما دی کیونکہ خشوع کے وقت انسان کا دل لرز رہا ہوتا ہے۔وہ دل ساکت اور جامد نہیں رہتا اس میں ایک ہنگامہ سا بر پا ہو جاتا ہے اور جتنے بھی عوامل ہیں دُنیا میں وہ حرکت کے بغیر ممکن نہیں۔فزکس کی اصطلاح میں اسے کہتے ہیں ایٹم یا مالیکیول کی ایکسائیٹڈ سٹیٹ۔جب تک ایکسائٹمنٹ نہ ہو ان کے اندر جو شعوری طور پر محسوس نہیں کرتے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک قسم کا شعور بھی عطا کیا ہوا ہے جو اندرونی ہے جسے ہم سمجھ نہیں سکتے۔وہ ایکسائیٹ ہو جاتے ہیں۔جب ایکسائیٹ ہوتے ہیں تو پھر وہ دوسرے مادوں کے ساتھ ری ایکٹ کرتے ہیں ، ان کے ساتھ مل کر تیسری چیز بناتے ہیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے محاوروں میں اگر چہ بظاہر سائنٹیفک اصطلاحیں استعمال نہیں ہوئیں مگر بعینہ سائنٹیفک اصطلاحیں استعمال ہو رہی ہیں جس کا علم