خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 705
خطبات طاہر جلد 17 705 خطبہ جمعہ 9اکتوبر 1998ء وہ اس کا درس بھی دیتے ہیں ، وہ پڑھتے بھی ہیں۔بڑے بڑے مدارس جاری ہیں ، بڑے بڑے فقہا ءان مدارس میں تقریریں کرتے ہیں۔66 مگر ان کو کیا فائدہ دیتی ہیں، کچھ بھی نہیں۔“ تو آنحضور صلی للہ ایسی تم نے جو دوسری احادیث میں مثال بیان فرمائی ہے کہ میری اُمت پر بھی وہ وقت آجائے گا جیسا یہود کی اُمت پر اور نصاریٰ کی امت پر مجھ سے پہلے آیا تھا اسی کا اشارہ فرمارہے ہیں۔کیا چیز تھی جو ان کے دل میں نہیں رہی تھی خوف خدا۔جب خوف اٹھ جائے گا، خشیت جاتی رہے گی تو علم کی بھر مار ہو ، طومار لگے ہوں وہ کچھ بھی اس قوم کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے جن کے دلوں سے خوف خدا اُٹھ چکا ہو۔جبیر کہتے ہیں: میں عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا اور کہا کہ تم نے سنا ہے کہ تیرا بھائی ابوالدرداء کیا کہہ رہا ہے۔پھر میں نے ابوالدرداء کی یہ ساری روایت عبادہ بن صامت کو بتائی۔عبادہ نے کہا ابوالدرداء نے سچ کہا ہے اگر تو پسند کرے تو میں تجھے وہ پہلا علم بتا دیتا ہوں جو لوگوں سے چھین لیا گیا یا چھین لیا جائے گا۔(اگر تم چاہتے ہو کہ معلوم کر لو وہ علم کیا ہے جو چھین لیا جائے گا۔فرمایا: ) وہ خشوع ہے۔“ اللہ کے حضور خشیت کے ساتھ جھک جانا، اس کے آگے خاک پہ بچھ جانا یہ وہ علم ہے جو قرآن کریم کی رو سے علم کہلاتا ہے۔پھر کہتے ہیں: وو وہ وقت آتا ہے کہ تو ایک جماعت کی مسجد میں داخل ہوگا تو اس میں ایک شخص بھی خشوع کرنے والا نہ پائے گا۔“ (ترمذی كِتَابُ الْعِلْمِ بَاب مَا جَاءَ فِي ذَهَابِ العِلْمِ ،حدیث نمبر : 2653) یہ وہ مضمون ہے جس کا قرآن کریم کی اس آیت میں ذکر ہے اِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ العلموا (الفاطر: 29) کہ اللہ سے تو صرف اور صرف اس کے بندوں میں سے علماء ڈرتے ہیں۔تو جو ڈرتے نہیں ہیں وہ علماء نہیں ہیں۔علم نہیں چھینا گیا وہ خوف چھینا گیا جو علم کی روح ہے۔کیسے لطیف انداز میں آنحضور صلی ایم نے قرآن کریم کی اس آیت کی تفسیر فرمائی۔ورنہ اب غیر علماء بھی ڈرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں مگر فر مایا علم ہے ہی خشوع کا دوسرا نام۔جسے علم ہو اس کے دونوں پہلو ہونے