خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 704
خطبات طاہر جلد 17 704 خطبہ جمعہ 9 اکتوبر 1998ء دو ہم رسول اللہ صلی الا السلام کے ساتھ تھے کہ آپ صلی شمالی تم نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھاتے ہوئے فرمایا ، ایسی گھڑی بھی آنے والی ہے جس میں علم لوگوں سے چھین لیا جائے گا۔ ایک ایسی گھڑی ئے گی کہ لوگوں سے علم چھین لیا جائے گا۔ اب اگر اللہ علم چھین لے تو پھر کیا باقی رہ جاتا ہے۔ کسی انسان کا اختیار کیا ہے کہ وہ اس علم کو زبردستی چمٹے رہے۔ تو جب آنحضرت صلیا کیا تم نے یہ فرمایا تو ساتھ فرمایا : ” وہ اس میں سے کسی بات پر بھی قدرت نہیں رکھیں گے ۔“ یعنی علم کے کسی پہلو پر بھی ان کو مقدرت نہیں ہوگی ۔ یہ ایک بڑی تعجب والی بات تھی کہ ایسی گھڑی کیسے آسکتی ہے کہ اللہ علم کو چھین لے جب کہ لوگ علم کو چمٹنا چاہیں اور علم کی حفاظت کرنا چاہیں۔ یہ ایک خیال زیاد بن لبید انصاری کے دل میں گزرا تو انہوں نے عرض کی : وو ہم سے علم کیسے چھین لیا جائے گا جب کہ ہم نے قرآن پڑھا ہے اور ہم ضرور اسے پڑھتے رہیں گے اور اپنے بیوی بچوں کو بھی ضرور پڑھائیں گے ۔ اس پر آپ صلی الا یہ کام نے فرمایا : اے زیاد! تیری ماں تجھے گم کر دے۔ میں تو تجھے مدینہ کے فقہاء میں سے سمجھا کرتا تھا ۔ 66 زیاد کے متعلق یہ بیان ان کی علمی شان اور تفقہ کو بھی ظاہر فرما رہا ہے اور یہ بھی کہہ رہا ہے کہ تم اس بات کو نہیں پاسکے جو میں نے بیان کی ہے۔ کتنے تعجب کی بات ہے اگر تم بھی نہیں سمجھو گے تو پھر باقی لوگ کیسے سمجھیں گے۔ ایک آدمی جو بہت فقیہ ہو اور بہت سمجھ دار ہو وہ نہ سمجھے تو کہتے ہیں لوجی تم بھی نہیں سمجھتے تو پھر اور کیا سمجھیں گے ۔ تو اس رنگ میں آپ صلی السلام نے فرمایا اور ماں گم کر دے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی بد دعا ہے ۔ یہ عرب محاورہ تھا کہ تیری ماں تجھے کھودے یعنی ماں جب بددعا کھودے تو اسے بہت تکلیف پہنچتی ہے تو شاید اس محاورہ کا یہ مطلب ہو کہ تم ایسی بات کر رہے ہو کہ تمہارے پیاروں کو اس سے تکلیف ہو رہی ہے تو ایسی باتیں نہ کیا کرو کہ تم سے محبت کرنے والے محسوس کریں گویا انہوں نے تمہیں گم کر دیا ہے۔ بہر حال اس پر آپ صلی السلام نے فرمایا: اے زیاد! تیری ماں تجھے کھودے میں تو تجھے مدینہ کے فقہاء میں شمار کرتا تھا۔ (اور کے کرتا آگے مثال کیسی عمدہ دی ہے) دیکھو یہ تو رات اور انجیل یہود و نصاری کے پاس ہیں ۔“