خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 703 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 703

خطبات طاہر جلد 17 703 خطبہ جمعہ 9اکتوبر 1998ء اے میرے اللہ ! میں تیری خشیت طلب کرتا ہوں غیب میں بھی اور شہادۃ میں بھی۔اس نے اُس مضمون کو بہت وضاحت سے بیان فرما دیا جو میں نے ابھی آپ کے سامنے رکھا ہے اور یہ حدیث اسی مضمون کو قوت بخش رہی ہے۔اور ایک زائد بات اس میں یہ ہے کہ اس بات کی دعا بھی تو کیا کرو ورنہ بغیر دعا کے از خود تمہیں یہ برکت نصیب نہیں ہو سکتی ، یہ سعادت نصیب نہیں ہو سکتی کہ تم جب دیکھو خشیت محسوس کرو۔تو اللہ سے یہ دعا کیا کرو کہ جب تو دکھائی نہیں بھی دے رہا ہوتا میں جانتا ہوں کہ تو غیب میں ہے اور ہر حال میں انسان خدا تعالیٰ کو شعوری طور پر محسوس نہیں کرتا کہ وہ موجود ہے۔اگر ایسا ہو تو اس کی زندگی سوائے ان اولیاء کے جو خدا کے ساتھ رہنے اور ہمہ وقت رہنے کے عادی ہوتے ہیں، عام انسان کی زندگی کٹھن ہو جائے۔بعض بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو ماؤں سے کہتے ہیں ہمارے ساتھ نہ پھرو، باپوں سے کہتے ہیں ہر وقت نہ ہمارے ساتھ رہا کرو کچھ تو ہمیں آزادی کے سانس لینے دو، ہم الگ ہو کے بھی جی کے دیکھیں۔تو پیاروں کے ساتھ رہنا بھی ایک حد تک اچھا لگتا ہے پھر برا لگنے لگ جاتا ہے تو اس لئے خدا کے ساتھ رہنے کا جو مضمون ہے اس پر یہ حدیث روشنی ڈال رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کرو کہ اپنا غیب میں بھی ساتھ عطا فرمائے تو ایسا ساتھ عطا فرمائے کہ اس کے نتیجہ میں خشیت پیدا ہو یعنی بے حیائی نہ ہو۔چنانچہ قرآن کریم کی ایک اور آیت ایسے گناہ کا ذکر کرتی ہے جو جنب اللہ میں کیا گیا۔ہر وقت اللہ ساتھ رہتا ہے مگر جسارت ہے اس کے باوجود بھی گویا اس کے پہلو میں چل رہا ہے اور گناہوں کی جسارت کر رہا ہے۔تو فرمایا کہ غیب میں بھی خشیت عطا فرما اور شهادة میں بھی۔جب ہم سمجھیں کہ تو پاس نہیں ہے اس وقت تیری خشیت ضرور نصیب ہو اور جب جانتے ہوں کہ تو ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتا ہے تب بھی تیری خشیت نصیب ہو۔تو اس دعا پر اس حدیث کے مضمون کی تان ٹوٹتی ہے یعنی اس سے اوپر پھر اور کوئی مضمون بیان نہیں ہو سکتا کہ انسان اپنی کمزوریوں پر نظر ڈالتے ہوئے اللہ ہی سے التجا کرے کہ وہ اسے یہ توفیق عطا فرمائے۔اگر اللہ کی توفیق عطا نہ ہو تو کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔اب ایک مضمون خشیت کا علم کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور اس مضمون پر ابی الدرداء کی ایک روایت ہے جو تر مذی كِتَابُ الْعِلْمِ ، بَاب مَا جَاءَ فِي ذَهَابِ العِلْمِ میں دی گئی ہے۔حضرت ابی الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ: