خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 699
خطبات طاہر جلد 17 699 خطبہ جمعہ 9اکتوبر 1998ء ہے اور واقعہ آنحضورصلی یا ایم کے صحابہ کا یہ حال تھا جس حال کے متعلق احادیث بوضاحت روشنی ڈال رہی ہیں کہ بعض دفعہ وہ رات کو صدقہ و خیرات کے لئے نکلتے تھے اور اس اندھیرے کے نتیجہ میں وہ لوگوں سے چھپتے تھے تو بائیں ہاتھ سے مراد یہاں دوسرے لوگ بھی ہو سکتے ہیں جن سے وہ چھپ کر صدقہ و خیرات کیا کرتے تھے، اور اندھیرا ایسا ہوتا تھا کہ یہ بھی نہیں پتا چلتا تھا کہ کس کو دے رہے ہیں۔چنانچہ صبح کے وقت لطیفہ کے طور پر یہ بات مشہور ہو جاتی تھی کہ ایک شخص نے ایک امیر آدمی کو رات کو کچھ پکڑا دیا۔اب لطف کی بات یہ ہے کہ اگر اُس کو پکڑایا تھا تو اس کو چاہئے تھا کہ انکار کر دیتا کہ میں تو امیر آدمی ہوں، کھاتا پیتا ہوں اور میں یہ قبول نہیں کروں گا لیکن اس میں دوسری خوبی یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ شکریہ لینے کی خاطر ٹھہرتے نہیں تھے اور تیزی سے نکل جایا کرتے تھے اور چونکہ اندھیرا ہوتا تھا اس لئے ان کا پیچھا کرنا بھی ممکن نہیں ہوا کرتا تھا اور اندھیرے میں پتا بھی نہیں چلتا کہ کیا پکڑایا گیا ہے۔وہ دیکھنے والا جب تک دیکھتا کہ یہ کیا چیز مجھے دے دی گئی ہے اس وقت تک وہ نظروں سے غائب ہو جایا کرتا تھا۔تو یہ مضمون ہے جو آنحضرت صلی للہ ایسی تم نے اس پہلو سے بیان فرمایا ہے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہوئی کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔ساتویں وہ مخلص جس نے خلوت میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا اور اس کی محبت کی بناء پر اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔“ (صحیح مسلم ، کتاب الزكاة، باب فضل اخفاء الصدقة،حدیث نمبر : 2380) لوگوں کے سامنے تو آنسو جاری ہو بھی جایا کرتے ہیں مگر جب انسان بالکل تنہا ہو، کوئی بھی نہ ہواس وقت اگر خدا کی محبت میں آنسو بہیں تو وہ آنسو سب سے زیادہ پیارے آنسو ہیں کیونکہ خدا کے سوا انہیں کوئی دیکھنے والا نہیں۔ایک اور حدیث نبوی سی ایم میں مذکور ہے جو ترمذی كِتَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ سے لی گئی ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی یہ تم نے فرمایا: ” خدا کی خشیت سے رونے والا شخص جہنم میں داخل نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ دودھ واپس تھنوں میں لوٹ جائے۔“