خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 693 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 693

خطبات طاہر جلد 17 693 خطبہ جمعہ 2اکتوبر 1998ء اختیار کرلیں اور یہ نور اگر آپ کو نصیب ہو جائے تو پھر انوار نازل بھی ہوں گے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر نازل کئے گئے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ نو ر نور سے ملتا ہے جن کا دل نورانی ہو چکا ہو، جس کا آغاز حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے نو را خذ کرنے کے نتیجہ میں ہوا، ان کا دل پھر مہبطِ انوار الہی بن جایا کرتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے بہت سے دیگر انوار بھی ان پر نازل ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔پھر فرماتے ہیں: ” اور وہ ذوق ان کو عطا ہو جو اس عاجز کو عطا کیا گیا ہے تا اسلام کی روشنی عام طور پر دُنیا میں پھیل جائے“۔(فتح اسلام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ: 22،21) وہ ذوق ان کو عطا ہو جب نور ملتا ہے تو نور کی اہمیت بھی ساتھ ساتھ واضح ہوتی چلی جاتی ہے۔چنانچہ فرمایا میں اس لئے چاہتا ہوں کہ ان پر بھی نور اترے تا کہ وہ ان کو نور کا مضمون صرف معنا معنی کے لحاظ سے سمجھ نہ آئے بلکہ ان کے دل میں جاری ہو اور اس کا لطف اٹھانے لگیں۔جب یہ ہو گا تو پھر یہ ہوگا تا اسلام کی روشنی عام طور پر دُنیا میں پھیل جائے۔“ اب دیکھیں ہم دعا ئیں تو بہت کرتے ہیں کہ اسلام کی روشنی تمام دنیا میں پھیل جائے مگر یہ کیسے پھیلے گی یہ طریق اکثر لوگوں کو معلوم نہیں۔ہاتھ اٹھاتے ہیں کہ اے اللہ! اسلام کی روشنی پھیلا دے مگر یہ نہیں جانتے کہ انہوں نے ہی وہ شمعیں بنا ہے جن شمعوں کے ذریعہ روشنی پھیلنی ہے۔تو ایسی دعا کیوں کرتے ہیں جس دعا کو اپنے نفوس میں جاری نہ کرنا چاہیں۔کسی کو اس دعا کا حق نہیں کہ اے اللہ ! اسلام کا نور ساری دُنیا میں پھیلا دے جب تک وہ اپنے دل کو پہلے نورانی نہ بنائے کیونکہ از خود نہیں پھیلے گا ورنہ تو ساری دنیا پر از خود آسمان سے نور اتر سکتا تھا۔کیوں نہیں اترتا؟ اس لئے کہ نورانی وجودوں کی معرفت ان کو نہیں مل رہا۔آنحضرت صلی شا ہی تم سے جو سلسلہ شروع ہوا وہی سلسلہ ہے جواب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دور میں تلةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ کے بعد قَلِيلٌ مِّنَ الْآخِرِينَ (الواقعة:15،14) کے ذریعہ سے شروع ہوتا ہے اور پھر اس سلسلہ نے پھیل جانا ہے۔اس کثرت سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو اولین تو نہیں ہوں گے لیکن پھر بھی دوسرے درجہ میں نیکیوں پر قدم بڑھانے والے ہوں گے۔ان کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے : وَثُلَةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ۔وہ پہلوں تک