خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 58 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 58

خطبات طاہر جلد 17 58 خطبہ جمعہ 23 جنوری 1998ء زندگیاں سنوار دے۔یہ پیغام ہے جو آج کا میرا پیغام ہے۔اس پیغام کو پیش نظر رکھتے ہوئے اب حضرت اقدس محمد مصطفی صلی ار ستم کی پیاری باتیں سنیں۔کس طرح آپ صلی ا یہ تم یہ عشرہ گزارا کرتے تھے، کس طرح رمضان میں آپ ملالہ یتیم کی نیکیاں غیر معمولی تحریک پاتی تھیں اور بڑی شدت کے ساتھ ان نیکیوں میں روانی آجایا کرتی تھی حالانکہ روایت کرنے والے بتاتے ہیں کہ ساری زندگی نیکی میں گزرتی تھی ، ان نیکیوں میں شدت آجاتی تھی۔یہ ایک عجیب مضمون ہے کیسے آتی ہوگی۔یہ دل کی کیفیات ہیں ان کے متعلق کوئی شخص نہیں ہے جو رسول اللہ صل للہ السلام کے دل میں جھانک کر دیکھ سکے۔ہم ظاہری روایات پر بناء کرتے ہیں مگر گہرائیوں میں اترنے کی طاقت نہیں پاتے۔پس جو بھی میں بیان کروں گا یہ الفاظ کا محتاج ہے اس لئے کچھ نہ کچھ پیغام آپ کو ضرور پہنچے گا مگر میرے اس بیان کے بہترین ہونے کے باوجود، اگر بہترین ہو، حضرت اقدس محمد مصطفی صلی یا پی ایم کے مقام کی شناسائی کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔بہت غور کر کے میں نے دیکھا ہے، جب بھی میں نے سمجھا کہ میں اس مقام کے قریب تک پہنچا ہوں تو وہ مقام اس طرح دُور ہٹتا ہوا دکھائی دیا ہے جیسے ستارے دُور ہٹ جاتے ہیں۔آپ جتنا چاہیں ان کو Chase کریں ان کی دوری کی رفتار ان معنوں میں کہ ان کا مرتبہ بلند تر ہوا کرتا ہے، جتنا آپ سمجھتے تھے اس سے زیادہ بلند تر ہوتا ہے، جتنی بلندی تک آپ پہنچیں قرب بھی نصیب ہوتا ہے مگر احساس، اس سے بعد بھی بڑھ جاتا ہے اور حضرت اقدس محمد مصطفی صلی یہ تم انسانوں میں سے اللہ کی ان دو صفات کے مظہر ہیں ایسے مظہر کہ کبھی کوئی انسان ان صفات کا ایسا مظہر نہیں بنا۔اِنِّي قَرِيب میں قریب ہوں اور بعید بھی ہوں، اتنا بعید کہ مجھ سے زیادہ دور اور کوئی نہیں۔خدا تعالیٰ سب دور کی چیزوں سے زیادہ دور ہے اور سب قریب کی چیزوں سے زیادہ قریب ہے۔اس مضمون پر میں غالباً پہلے خطبات دے چکا ہوں مگر یاد رکھیں کہ یہ دونوں چیزیں بیک وقت ممکن ہیں اور دونوں ایک وقت میں اکٹھی ہو جاتی ہیں جتنا آپ کو اللہ تعالیٰ سے قرب کا احساس ہوگا اور حقیقی احساس ہوگا اسی قدر خدا تعالیٰ کی بلندی اور ڈوری آپ پر واضح اور روشن اور ظاہر ہو جائے گی۔آپ سمجھتے ہیں عام سی چیز ہے، روزمرہ کی باتیں ہیں، ہم اللہ کو جانتے ہیں، واقف ہیں کہ اللہ کیا ہوتا ہے لیکن جب واقف بنتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ وہ تو بہت ہی بلند چیز ہے، ہمارے تصور سے بھی بالا ہے اور یہ احساس کہ وہ بالا اور دور تر ہے یہ قریب سے پیدا ہوتا ہے قرب کے بغیر نصیب نہیں ہوسکتا۔