خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 681 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 681

خطبات طاہر جلد 17 681 خطبہ جمعہ 2 اکتوبر 1998ء قربانیاں پیش کریں اور آج بھی اُسی دور کا فیض ہے، آنحضور صلی السلام کے غزوات میں اقدام کا فیض ہے کہ ہمیں بھی یہ توفیق مل رہی ہے۔ قرآن کریم ہمارا ذکر قلِيلٌ مِّنَ الْآخِرِينَ کے طور کرتا ہے۔ اسی سنت پر پیدا ہونے والے آخرین میں سے بھی کچھ ہوں گے مگر تعداد میں تھوڑے ہوں گے اگرچہ اول درجہ کی قربانیاں پیش کرنے والے ہوں گے۔ اب اللہ مجھے ضبط کی توفیق دے کیونکہ یہ بہت ہی اہم مضمون ہے لیکن بہت درد ناک ہے۔ ابو حازم بیان کرتے ہیں اور یہ حدیث بخاری کتاب المغازی سے لی گئی ہے کہ : دو سہل بن سعد سے رسول اللہ صلی ال السلام کے زخموں کی بابت پوچھا گیا ۔ وہ کہنے لگے خدا کی قسم میں نے رسول اللہ صلی علیہ السلام کے زخموں کو دھونے والے اور پانی ڈالنے والے دونوں کو دیکھا ہے، میں دونوں کو جانتا ہوں۔ نیز جس چیز سے علاج کیا گیا تھا وہ بھی میرے علم میں ہے۔ چنانچہ انہوں نے کہا حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت رسول صلی الله السلام زخموں کو دھوتی تھیں اور حضرت علی بن ابی طالب ڈھال سے پانی ڈالتے تھے۔ جب رض انہوں نے دیکھا کہ پانی ڈالنے سے خون زیادہ بہتا ہے تو انہوں نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لے کر جلایا اور راکھ زخم پر لگا دی اس طرح خون رک گیا۔ یہ آج کے زمانہ کے لئے بھی ایک سبق ہے جب اور کوئی فوری چیز مہیا نہ ہو تو راکھ جلا کر ڈالنے کا طریق عربوں میں رائج تھا اور یہ بہت عمدہ طریق ہے اس پہلو سے کہ اس میں تمام جراثیم جلنے سے مرجاتے ہیں اور راکھ میں خدا تعالیٰ نے یہ مادہ رکھا ہے کہ خون جذب کر کے وہ اس مقام پر جہاں سے خون بہہ رہا ہو، بیٹھ جاتی ہے اور خون بند ہو جاتا ہے۔ یہ ضمناً میں عرض کر رہا ہوں کیونکہ ایسے واقعات جماعت میں ہوتے رہتے ہیں ان کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔ اس روز حضور کے سامنے والے دندان مبارک ٹوٹ گئے تھے ، آپ صل الا السلام کا چہرہ مبارک زخمی تھا اور خود ٹوٹ چکا تھا اور ٹوٹا ہوا خود آپ صلی ا لی ایم کے سر میں دھنس گیا تھا یہاں تک کہ جب نکالنے والے نے دانتوں سے کھینچ کر نکالا تو اپنے دانت بھی ٹوٹ گئے۔ اس قدر شدت کے ساتھ وہ اندر دھنسا ہوا تھا ) (صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب ما أصاب النبي ﷺ من الجراح يوم احد ، حدیث نمبر : 4075)