خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 677 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 677

خطبات طاہر جلد 17 677 خطبہ جمعہ 25 ستمبر 1998ء افغانستان، پاکستان ، ہندوستان، کشمیر وغیرہ یہ سب شامل ہیں ان سب خطہ ہائے ارض پر وہ سایہ منڈلا رہا ہے اور بعید نہیں کہ کسی وقت یہ سایہ اپنا ظلم ان پر برسانے لگے۔فرمایا، جو ایسے سائے سے بھی پناہ مانگتا ہو اس کو اللہ تعالیٰ امن دے دے گا کیونکہ جو یہ سات صفات اپنے اندر رکھتا ہے اس کو ایسے ہر سائے سے بچا کر اللہ اپنے سائے تلے لے آئے گا۔یہ خوش خبری ہے جو خاص طور پر ملحوظ رکھنے والی ہے۔اس لئے اب میں ان سات صفات کا ذکر کرتا ہوں جن کو اپنانے کے نتیجہ میں دنیا کے خطر ناک سایوں سے اللہ کا سایہ انسان کو پناہ دے گا۔فرمایا: اول ” امام عادل۔“ اب بتائیں کہیں ہے امام عادل جو آپ کو دکھائی دیتا ہو، وہ قوم کا سربراہ جو عادل ہو میں نے تو دُنیا میں ہر طرف نظر دوڑا کے دیکھا ہے، مجھے تو کہیں عادل سر براہ دکھائی نہیں دیتا۔تو مطلب یہ ہے کہ دنیا میں کہیں بھی وہ مقام وہ خطہ واقع نہیں جس کو اللہ کا سایہ بچائے کیونکہ پہلی شرط امام عادل کی ہے اور دراصل امام عادل کا سایہ ہی اللہ کا سایہ ہوا کرتا ہے۔اُردو محاورہ تھا بادشاہ کو ظل اللہ کہا کرتے تھے اللہ کا سایہ ،مگر اس وقت بادشاہت کی تعریف اور ہوتی تھی۔بادشاہت کی تعریف میں عدل داخل سمجھا جاتا تھا، اس کا ایک لازمی جزو سمجھا جاتا تھا اس وقت اسے ظل اللہ کہتے تھے۔اب تو ان دُنیاوی عادلوں کو امیر المومنین یا ظل اللہ کہنا خدا تعالیٰ کی سب سے بڑی گستاخی ہے۔ایسی بھیانک تصویر اُبھرتی ہے ان کے عدل کی کہ اس کے بعد ایسے لوگوں کو امیر المومنین قرار دینا تو حیرت انگیز بات ہے۔کہتے ہیں جیسی روح ویسے فرشتے جیسا امیرالمومنین ویسے ہی مومنین ہو نگے اور واقعۂ ہیں۔تو عدل سے عاری امیر ہوں جہاں وہاں اللہ کے سایہ کے پڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ان کا سایہ بھی مہلک اور جس نام پر وہ سایہ ڈال رہے ہیں اس نام کی شمولیت کی وجہ سے وہ اور بھی زیادہ مہلک ہو جاتے ہیں کیونکہ جو اللہ کا سایہ نہ ہو اور مہلک ہوا سے اللہ کا سایہ قرار دیا جائے تو یہ خدا کے غضب کو بھڑ کانے کے لئے ایک اور وسیلہ بن جاتا ہے۔اس لئے بجائے اس کے کہ اللہ کے پیار کی نظر پڑے اور وہ اپنا سا یہ پھیلا دے، برعکس مضمون ہوگا۔اب آگے چونکہ چھ اور باقی رہتے ہیں اس لئے انشاء اللہ ان کا ذکر اگلے خطبہ میں شروع کروں گا۔کچھ اور بھی احادیث ابھی باقی ہیں۔