خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 668
خطبات طاہر جلد 17 668 خطبہ جمعہ 25 ستمبر 1998ء ہیں ان سب کا آخر مقصد یہ ہے کہ ہم نفع اٹھائیں ، نہ یہ کہ دنیا کو نفع پہنچا ئیں۔کون سا علم ہے، کونسی سائنس ہے جو دنیا کو نفع پہنچانے کی خاطر ایجاد ہوئی ہے۔نفع حاصل کرنے کی خاطر ہے اسی وجہ سے پیٹینٹ (Patent) چلتے ہیں اور نئی دوائیں ایجاد ہوتی ہیں جو بے انتہا مہنگی مگر چونکہ ایجاد کرنے میں خرچ اسی لئے کیا گیا تھا کہ ہم اس سے فائدہ اٹھا ئیں اس لئے وہ اپنا حق سمجھتے ہیں کہ بنی نوع انسان کو تب فائدہ پہنچے جب ان کا منافع ہماری جیبوں میں داخل ہو جائے۔چند دن ہوئے اس قسم کی بخشیں یہاں انگلستان کے دانشوروں میں اٹھائی گئیں تو بعض دانشوروں نے اصل حقیقت کو پکڑ لیا اور اتنی جرات دکھائی کہ کھل کر بات کر سکیں۔انہوں نے کہا اصل خرابی یہ ہے کہ ہم سب خود غرضی میں کرتے ہیں۔آج ہمیں ایک ایسے نئے دور کی ضرورت ہے اور انہوں نے انگلستان کو دعوت دی کہ یہ دور انگلستان سے شروع ہو تو اس انقلابی دور کا سہرا انگلستان کے ہاتھ میں آجائے گا کہ وہ اپنے دل ٹول کر ایسی باتیں کریں، ایسی حکمت عملی بنا ئیں جس سے واقعہ بنی نوع انسان کا فائدہ پیش نظر ہو اور اس کی پہچان یہ ہوگی کہ اس فائدہ کے دوران اپنا نقصان بھی ہو تو اس کو برداشت کریں۔یہ وہ مرکزی حکمت کی بات ہے جو قرآن وحدیث کے حوالہ سے میں بڑی دیر سے ان کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں اور مجھے بہت خوشی ہوئی کہ اب یہاں سے بھی وہ آواز اٹھنے لگی ہے۔اس دُنیا کے حالات تبدیل ہو ہی نہیں سکتے جب تک اس مرکزی نکتہ کو آپ نہ سمجھ جائیں کہ ایسی کوششوں ، ایسی مساعی سے پناہ مانگیں کہ جو بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے نہیں بلکہ اپنے فائدہ کے لئے ہوں۔پھر فرمایا: "أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَؤُلاءِ الأَرْبَع " میں ان چار چیزوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔اگر ان چاروں چیزوں سے اللہ کی پناہ مل جائے تو پھر باقی کچھ بھی نہیں رہتا۔ایسے ہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔جن کی دنیا ہی نہیں بلکہ آخرت بھی سنور جاتی ہے۔پس جماعت احمدیہ کے لئے لمحہ فکریہ ہے کیا ہم بھی جو جو کوششیں کرتے ہیں اس کا آخری مقصد محض اپنے آپ کو فائدہ پہنچانا تو نہیں، کیا ہماری جستجو ، ہماری تحقیقات ، ہماری کوششیں اس لئے وقف ہیں کہ لوگوں کو فائدہ پہنچا کر اللہ کی رضا حاصل کریں تو یہ خشیت ہے، یہ خشوع ہے۔ہر چیز میں اللہ کی رضا حاصل کرنے کی خاطر بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچاتے چلے جائیں کیونکہ اللہ ان بندوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی خاطر اس کے بندوں سے محبت کرتے ہیں اور جو اس کی خاطر اس کے بندوں کے لئے مختلف نفع بخش تدبیریں