خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 646 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 646

خطبات طاہر جلد 17 646 خطبہ جمعہ 18 ستمبر 1998ء 66 کہتے ہیں تو فرمایا خواہ خدا تعالیٰ سے معاملات ہوں خواہ مخلوق کے ساتھ ان دونوں میں اس کی رسی کھلی نہیں چھوڑی جاتی وہ بعض پابندیوں کی حدود میں رہتا ہے اور جدھر چاہے ادھر منہ کر کے بے تحاشا دوڑ نہیں سکتا۔کیوں؟ اس لئے کہ: اس خوف سے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک کسی اعتراض کے نیچے نہ آجاویں۔( یہ ڈر ہے جو اسے مختلف امور میں زیادتیوں سے بچائے رکھتا ہے ) اپنی امانتوں اور عہدوں میں دور دور کا خیال رکھ لیتے ہیں۔اور ہمیشہ اپنی امانتوں اور عہدوں کی پڑتال کرتے رہتے ہیں۔( یہ ایک بہت ہی اہم حصہ ہے اس عبارت کا جس کی تشریح ابھی اس کے بعد آئے گی) اور ہمیشہ اپنی امانتوں اور عہدوں کی پڑتال کرتے رہتے ہیں اور تقویٰ کی دور بین سے اس کی اندرونی کیفیت کو دیکھتے رہتے ہیں۔“ اب اگر سرسری نظر سے آپ مطالعہ کریں تو اپنے اندر ہی دور بین کے استعمال کی ضرورت نہیں پیش آسکتی۔خوردبین کے استعمال کی ضرورت پیش آنی چاہئے کیونکہ خوردبین نزدیک کی چیز کو بڑا کر کے دکھاتی ہے لیکن جو پہلی عبارت کا حصہ ہے اس سے اس دوسری عبارت کی تشریح ہو رہی ہے۔اپنی امانتوں اور عہدوں میں دور دور کا خیال رکھ لیتے ہیں اور امر واقعہ یہ ہے کہ انسان کے اندر اس کی مخفی حالتیں اس سے بہت دور ہوتی ہیں اور معنوی لحاظ سے بعض دفعہ اتنا دور ہوتی ہیں کہ وہ دور بین کے سوا نہیں دیکھ ہی نہیں سکتا۔تو یہاں دور بین کے لفظ کا استعمال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عرفان پر ایک گہری دلالت کرتا ہے یعنی بہت ہی گہر ا عرفان ہے اور ہر لفظ بہت احتیاط سے اور چن کے لکھتے ہیں۔تا ایسا نہ ہو کہ در پردہ ان کی امانتوں اور عہدوں میں کچھ فتور ہو۔“ یعنی پردے کے پیچھے چھپی ہوئی چیز جیسے دکھائی نہیں دیتی اس طرح ان کو اپنی اندرونی حالتوں کو غور سے دیکھنے کے لئے اور دور دور تک ان پر نظر کرنے کی خاطر گہری نظر سے دیکھنا پڑتا ہے۔”جو امانتیں خدا تعالیٰ کی ان کے پاس ہیں جیسے تمام قومی اور تمام اعضاء اور جان اور مال اور عزت وغیرہ ان کو حتی الوسع اپنی بپابندی تقویٰ بہت احتیاط سے اپنے اپنے محل پر استعمال کرتے رہتے ہیں۔66 (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ : 208)