خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 645 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 645

خطبات طاہر جلد 17 645 خطبہ جمعہ 18 ستمبر 1998ء مومن اپنی امانتوں اور عہدوں کی پڑتال کے ساتھ ساتھ تقویٰ کی دور بین سے اس کی کیفیت کو دیکھتے رہتے ہیں (خطبه جمعه فرمودہ 18 ستمبر 1998ء بمقام بيت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ کی تلاوت کیں : قد أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَشِعُونَ وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ پھر فرمایا: (المومنون: 2 تا 4) ان آیات پر خطبہ دینے سے پہلے میں گزشتہ خطبہ کے تسلسل میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چند حوالے پیش کر رہا ہوں جو وقت ختم ہونے کی وجہ سے پہلے پیش نہیں کئے جاسکے تھے۔دس پندرہ منٹ کے اندر امید ہے یا اس سے بھی پہلے یہ مضمون ختم ہو جائے گا یعنی مضمون تو ختم نہیں ہوسکتا مگر اس خطبہ میں میں اس کو ختم کروں گا اور آئندہ پھر جب توفیق ملے گی دوبارہ چھیڑوں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: خلاصہ مطلب یہ کہ وہ مومن جو وجود روحانی میں پنجم درجہ پر ہیں وہ اپنے معاملات میں خواہ خدا کے ساتھ ہیں خواہ مخلوق کے ساتھ بے قید اور خلیع الرسن نہیں ہوتے۔“ گھوڑے کی رٹی کو اگر چھوڑ دیا جائے تو گھوڑا جہاں چاہے چلا جاتا ہے اس کو کہتے ہیں خلیع الرسن، تو ایسا انسان جس پہ کوئی پابندی نہ ہو وہ جدھر منہ اٹھے اس طرف بھاگ پڑے اس کو خلیع الرسن