خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 643
خطبات طاہر جلد 17 643 خطبہ جمعہ 11 ستمبر 1998ء پس میں اُمید رکھتا ہوں کہ جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ اپنے آپ کو تقویٰ کی باریک راہوں پر چلنے کے لئے اس حد تک تیار کرلے گی کہ ابتدائی شرط ضرور پوری ہو جائے۔وہ ان جذبات اور کئی قسم کی باتیں ہیں جن کی تفصیل میں مجھے جانے کی ضرورت نہیں ہے مگر آئے دن انسان کا امتحان ہوتا رہتا ہے، آئے دن انسان کو یہ مراحل در پیش ہیں کہ وہ اپنے نفس کے غلبہ کے تابع ہی زندگی بسر کر رہا ہوتا ہے۔جب فیصلہ کرتا ہے نفس کے جوش کے نتیجہ میں فیصلہ کرتا ہے تو اس جوش کو ٹھنڈا کرو، اس جوش کو جو ایک آگ ہے اس کو بجھاؤ۔اس آگ کو بجھانے کا نام تقویٰ نہیں ہے۔یہ آگ بجھے گی تو پھر آپ کو وہ جنت نصیب ہوگی جو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو نصیب ہوئی تھی یعنی آگ گلزار اس طرح بنائی جاتی ہے پہلے اس کے شعلوں کو ٹھنڈا کر دو پھر ان میں سے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وہ گلزار پھوٹے گا جس کا نام تقویٰ ہے۔وہ ایک باغ ہے جنت کا جو تقویٰ کے نتیجہ میں نصیب ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین