خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 638 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 638

خطبات طاہر جلد 17 638 خطبہ جمعہ 11 ستمبر 1998ء رسول اللہ صلی الا السلام نے بہت گہرے مضمون بیان فرما دئے ہیں کہ مومن ہر قسم کی عادتوں اور خصلتوں پر رض پیدا کیا جاتا جاتا۔ ہے ۔ یہ نہ سمجھنا کہ مومن بعینہ ایک دوسرے جیسے ہوتے ہیں ۔ اور صحابہ پر بھی غور کر کے دیکھیں کوئی صحابی دوسرے سے نہیں ملتا۔ ہر ایک الگ الگ ہے، ہر ایک کا الگ الگ مزاج اور الگ الگ شان ہے مگر وہ ساری شانیں آنحضرت صلی الا السلام سے اخذ کر کے پھر انہوں نے اپنے برتنوں میں سجالیں ۔ ایک حدیث سنن الترمذی کتاب البر سے لی گئی ہے۔ اس میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صل اللہ السلام نے فرمایا : ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ، وہ نہ اس کی خیانت کرے، نہ اسے جھٹلائے اور نہ اس کو رسوا کرے۔“ (سنن الترمذی، ابواب البر والصلة، باب ما جاء فى شفقة المسلم على المسلم ، حدیث نمبر : 1927) اب یہ بات بہت عجیب ہے کہ اسے جھٹلائے نہیں اگر کوئی جھوٹ بولے گا تو اسے جھٹلا نا بھی پڑے گا لیکن اس میں صحابہ کی شان بیان فرمائی گئی ہے۔ فرمایا سچے مومن جو میرے خلق پر ، مجھ سے خلق سیکھ کر مختلف رنگ اختیار کر گئے ہیں ان میں جھوٹ تم نہیں دیکھو گے۔ پس ایک نیک انسان دوسرے نیک انسان کو اس لئے جھٹلا دے کہ اس کو تعجب ہو اس بات پر یہ درست نہیں ہے۔ تو رسول اللہ صل الا یہ کام نے یہ فرمایا نہ اس کی خیانت کرے ، نہ اسے جھٹلائے۔ یہ بہت گہری اور عظیم تعلیم ہے یعنی جھٹلانے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔ ہو نہیں سکتا کہ کوئی صحابی جو سچا مومن ہو اور یہاں تو چونکہ عمومی بات ہے ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے یہ آج بھی اطلاق پارہی ہے مگر میں صحابہؓ کی بات اس لئے کہہ رہا ہوں کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی الم السلام نے صحابہ کو دیکھ کر ان سے یہ نتیجہ اخذ فرمایا ہے اور تمام کلیم یہ وقتوں سے تمام دنیا کے مسلمانوں سے وہی توقع رکھی ہے جو سچی مسلمانی کی نشانیاں تھیں کہ خیانت نہ کرے اور اسے جھٹلائے نہیں اور نہ اسے رسوا کرے۔ ےاورا ہے۔ اب یہ بات میرے تجربہ میں ہے کہ بعض دفعہ ایک شخص بات بیان کر رہا ہوتا ہے وہ ویسے سچا ہوتا ہے لیکن بات غلط بیان کر رہا ہوتا ہے کیونکہ وہ بات کو بعض دفعہ سمجھ نہیں سکتا۔ اب وہ لاعلمی میں کم فہمی کے نتیجہ میں اگر بات نہ سمجھ سکے تو اس کو آپ جھٹلا نہیں سکتے ۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ میں تمہاری بات کو مانتا ہوں مگر تم بات سمجھے نہیں ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کے متعلق یہ روایت ہے