خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 53 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 53

خطبات طاہر جلد 17 53 خطبہ جمعہ 16 جنوری 1998ء قصہ پر غور کرو اس قصہ میں یہ بات ثابت ہے کہ ابراہیم خود نہیں کہہ رہے تھے کہ میرے لئے آگئیں جلاؤ۔جب آگ جلائی گئی تو اس سے بھاگنے کی بجائے اس میں گرنے کی طرف توجہ کی جو خدا کی خاطر تھی۔پس قصہ پر غور کرو نہ کہ نا مجھی سے اس قصہ کو اپنے اوپر چسپاں کرو۔یہ حصہ پڑھنے سے رہ گیا تھا اس لئے میں دوبارہ اس کی طرف متوجہ ہوا ہوں، آخری حصہ میں پڑھ چکا ہوں۔یہ البدر میں عبارت چھپی ہے اور اس کے نیچے نوٹ ہے کہ اوپر کی تقریر فارسی زبان میں تھی اور بدر کے ایڈیٹر نے یہ نوٹ لکھا ہے کہ میں نے افادہ عام کی خاطر اردو میں ترجمہ کر کے لکھی ہے۔پس یہ یادرکھیں کہ اصل عبارت فارسی میں تھی جس کا اُردو تر جمہ کیا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آخر پر جس دعا کی طرف توجہ دلاتے ہیں اب اتنا سا وقت رہ گیا ہے کہ میں یہ دعا پڑھ کر اس خطبہ کو ختم کروں گا۔آپ فرماتے ہیں: ” پس میرے نزدیک خوب ہے کہ (انسان ) دعا کرے کہ الہی یہ تیرا ایک مبارک مہینہ ہے اور میں اس سے محروم رہا جاتا ہوں اور کیا معلوم کہ آئندہ سال زندہ رہوں یا نہ ، یا ان فوت شدہ روزوں کو ادا کر سکوں یا نہ اور اس سے توفیق طلب کرے۔تو مجھے یقین ہے کہ ایسے دل کو خدا طاقت بخش دے گا۔“ اس لئے روزے میں حائل ہونے والی بیماریوں کا علاج بھی یہ دعا ہے جو اس مہینہ میں کثرت سے کرنی چاہئے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اگر خدا چاہتا تو دوسری اُمتوں کی طرح اس اُمت میں کوئی قید نہ رکھتا مگر اس نے قید میں بھلائی کے واسطے رکھی ہیں۔میرے نزدیک اصل یہی ہے کہ جب انسان صدق اور کمال اخلاص سے باری تعالیٰ میں عرض کرتا ہے کہ اس مہینہ میں مجھے محروم نہ رکھ تو خدا اسے محروم نہیں رکھتا اور ایسی حالت میں اگر انسان ماہ رمضان میں بیمار ہو جائے تو یہ بیماری اس کے حق میں رحمت ہوتی ہے کیونکہ ہر ایک عمل کا مدار نیت پر ہے۔مومن کو چاہئے کہ وہ اپنے وجود سے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں دلاور (بہادر ) ثابت کر دے۔جو شخص روزہ سے محروم رہتا ہے مگر اس کے دل میں یہ نیت درد دل سے تھی کہ کاش میں تندرست ہوتا اور روزہ رکھتا اور اس کا دل اس بات کے لئے گریاں ہے تو فرشتے