خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 637 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 637

خطبات طاہر جلد 17 637 خطبہ جمعہ 11 ستمبر 1998ء اور کذب کے لیکن اس روایت میں ایک اور چیز بھی غور طلب ہے۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ بچہ خدا کی صفات پر پیدا کیا جاتا ہے تو ہر قسم کی صفات سے کیا مراد ہوئی پھر۔؟ دراصل خدا کی صفات میں بھی مختلف اقسام داخل ہیں كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ (الرحمن :30) ہر دن اس کی ایک الگ شان ظاہر ہوتی ہے۔اب بنیادی صفات تو نہیں بدلتیں لیکن ان کے تابع نئی نئی شانیں انہیں صفات کی ظاہر ہوتی رہتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ انسان کو بھی جو صحیح فطرت پر پیدا کیا گیا ہے خدا تعالیٰ یہی کچھ ودیعت فرماتا ہے۔پس یہ جو فرمایا گیا کہ ہر قسم کی عادتوں پر پیدا کیا گیا ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ حدیث غلط ہے یا قرآن کریم کی وہ آیت غلط ہے جس میں بچے کے مولود علی فطرت کا ذکر ہے۔ہر قسم کی عادتوں میں یہ بھی مضمون داخل ہے کہ اگر سب فطرت پر ہوتے اور ایک جیسی عادتیں ہوتیں تو ساری انسانی سوسائٹی Monotonous ہو جاتی۔اس میں ایک ایسی یگانگت پیدا ہوتی کہ اس سے طبیعتیں اُکتا جاتیں لیکن میں بگڑے ہوؤں کی بات نہیں کر رہا وہ تو بگڑ ہی جاتے ہیں۔وہ فطرت کو چھوڑ کر ان کے ماں باپ ان کو غلط بناتے ہیں میں ان کی بات نہیں کر رہا، ان کی کر رہا ہوں جو فطرت پر قائم رہتے ہیں اس کے باوجود ان کے الگ الگ مزاج ہیں۔پس یہ مراد ہے کہ الگ الگ عادتوں پر پیدا کیا گیا ہے۔ہم نے بچپن میں وہ دور دیکھا جب قادیان صحابہ سے بھرا پڑا تھا اور ہر صحابی کا الگ مزاج تھا، اس کی الگ الگ عادتیں تھیں اور تھے سارے فطرت پر۔تو یہ بات بھی اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ فطرت پر ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سوسائٹی بعینہ ایک دوسرے سے مشابہ ہو جائے ، ایک دوسرے سے مشابہ تو ہوتی ہے بنیا دوں میں لیکن بعینہ نہیں ہوتی ان کے اندر مزاج مزاج کا فرق ہے۔چنانچہ اب میں غور کرتا ہوں اور پرانے زمانہ کی باتیں یاد کرتا ہوں تو مجھے ایک مثال بھی نظر نہیں آتی کہ دو صحابہ بعینہ ایک جیسے تھے اور لطف کی بات یہ ہے کہ ان کے الگ الگ ہونے میں بھی خدا ہی جھلکتا تھا اور خدا کی مختلف شانیں ان سے عیاں ہوتی تھیں اور عجیب دل کشی تھی سوسائٹی میں کہ اللہ تعالیٰ کی بے انتہا مختلف شانیں آپ مالی ایم کے طفیل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میں بھی یکجا ہوگئی تھیں۔تو اس شمع سے ہم نے نور حاصل کرنا ہے جس میں خدا کے یہ سارے رنگ پائے جاتے ہیں اور رنگ جدا جدا ہونے کی بجائے شمع ایک ہی رہتی ہے۔پس اس چھوٹی سی حدیث میں حضرت اقدس محمد