خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 636
خطبات طاہر جلد 17 636 خطبہ جمعہ 11 ستمبر 1998ء مسند احمد بن حنبل جلد نمبر 7 صفحہ 252 مطبوعہ بیروت میں یہ روایت درج ہے: " عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ ، حضرت ابوامامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ایم نے فرمایا : مومن ہر قسم کی عادتوں اور خصلتوں پر پیدا کیا جاتا ہے سوائے خیانت اور کذب کے۔“ (مسنداحمد بن حنبل، مسند المكثرين من الصحابة، مسندابی امامۃ ،مسند نمبر :22170) اب یہ بات بالکل واضح ہے کہ جو بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے تو اس کی فطرت میں کذب اور خیانت ہو ہی نہیں سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون پر بہت ہی گہرائی سے اور لطیف روشنی ڈالی ہے۔بچوں کے اپنی ماؤں کے دودھ سے وابستہ ہونے اور غیر ماؤں کو قبول نہ کرنے کا مسئلہ آپ نے اسی حوالہ سے چھیڑا ہے۔جب ایک ماں اپنا دودھ چھڑا کر جو صحت والا دودھ ہو دوسری دائی کو دینے کی کوشش کرتی ہے تو بچہ اکثر اس سے منہ پھیر لیتا ہے، طرح طرح کے اس کو حیلے کرنے پڑتے ہیں تا کہ بچہ وہ دوسرا دودھ پی لے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی امر کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بھی وابستہ کر دیا۔فرمایا دیکھو بچپن سے ہی امین تھا اس کی فطرت میں امانت تھی۔اس نے دوسری ہر دائی کا دودھ پینے سے انکار کر دیا حالانکہ عام طور پر جب بچوں کو ضرورت پڑتی ہے بھوک سے بلبلا میں تو آخر مجبور ہو کر کچھ نہ کچھ دوسری دائیوں کے دودھ پر بھی منہ مارنا پڑتا ہے مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی مضمون کے حوالہ سے بیان کیا امانت کے مضمون کے لحاظ سے، یعنی روایت تو بیان نہیں کی جو میں پڑھ رہا ہوں لیکن اسی مضمون کو قرآنی آیات کے حوالہ سے بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ امانت فطرت میں ہے اور اس کو بچوں سے بھی سیکھو اور خصوصاً موسیٰ علیہ السلام سے سیکھو، بچپن سے وہ امین تھا تو خدا نے اس پر امانت کا بوجھ ڈالا۔پس یہ دیکھیں کتنی لطیف بات ہے کسی عام انسان کے ذہن میں آہی نہیں سکتی۔ایک عارف باللہ ہے جو اس گہرائی تک اترتا ہے اور پہنچتا ہے اور پھر لوگوں کو دکھاتا ہے۔اس سے پہلے کسی تفسیر کی کتاب میں یہ حوالہ آپ کو نہیں ملے گا کہ بچے جو ماں کا دودھ پیتے ہیں ان سے امانت سیکھو۔پس رسول اللہ صل للہ ایسی تم نے فرمایا مومن ہر قسم کی عادتوں اور خصلتوں پر پیدا کیا جاتا ہے سوائے خیانت