خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 635 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 635

خطبات طاہر جلد 17 635 خطبہ جمعہ 11 ستمبر 1998ء یہ سارے آپس میں متعلق امور ہیں اور یہ پھل ہے بددیانتی کا اور عہد شکنی کا۔تو عہد شکنی بہت خطرناک چیز ہے۔ایک آدمی سمجھتا ہے کہ میں نے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیا ہے عہد شکنی کر کے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کی ساری برکتیں اٹھ جاتی ہیں اور اس کی اولاد سے بھی برکت اٹھ جاتی ہے۔خائن لوگوں کی اولادیں دین سے سرکنے لگتی ہیں اور رفتہ رفتہ ایسے بد انجام کو پہنچتی ہیں کہ پھر وہ روتے پھرتے ہیں کہ ہماری اولا د تباہ ہو گئی حالانکہ یہ سارے خیانت کے اثرات ہیں۔پس اس مضمون کو معمولی نہ سمجھیں۔میں جتنا اس پر زور دے رہا ہوں وہ زیادہ نہیں بلکہ کم ہے۔یہ تو ایسا سلسلہ ہے جس پر کئی سال لگ سکتے ہیں اسی مضمون پر مگر میں نے سوچا ہے کہ وقتاً فوقتاً کچھ وقفہ دے دے کر پھر دوبارہ اسی مضمون کی طرف لوٹوں گا۔سنن ابی داؤد سے ایک روایت لی گئی ہے۔حضرت سفیان بن اسید حضرمی سے روایت ہے وو کہ میں نے رسول اللہ صلی ال ایلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ : یہ بہت بڑی خیانت ہے کہ تو اپنے بھائی کو ایک بات سنائے جس میں وہ تجھے سچا سمجھے مگر تو اس میں جھوٹا ہو۔“ (سنن ابی داؤد، کتاب الأدب، باب فی المعاريض ،حدیث نمبر :4971) یہ بہت احتیاط کی ضرورت ہے، غالباً میں پہلے بھی اس مضمون کو بیان کر چکا ہوں ایک دوسری حدیث کے حوالہ سے کہ بات کریں تو دیکھیں کہ آپ کو وہ سچا سمجھ رہا ہے کہ نہیں۔اگر سچا سمجھ رہا ہے اور آپ سچے نہ ہوں تو اس جھوٹ کا سارا وبال آپ کی جان پہ آجائے گا۔بعض لوگ غلطی سے یا عاد تا مبالغہ آمیزی کرتے ہیں اور اپنی طرف سے زیب داستاں کے لئے بڑھا بھی دیتے ہیں لیکن جو ان میں سے تقویٰ شعار ہیں ان کے منہ سے ایسی باتیں نکل تو جاتی ہیں مگر وہ مجلس برخواست کرنے سے پہلے بتا دیا کرتے ہیں کہ مجھے لگتا ہے تم اس کے ظاہر پر ایمان لے آئے ہو میں تو لطیفہ کے رنگ میں یہ بات کر رہا تھا مگر اگر تم مان گئے ہو تو یہ غلط ہے۔یہ ایک کہانی سی ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔اگر اس طرح وضاحت کر دیں تو پھر جھوٹ نہیں ہوگا کیونکہ اس حدیث میں یہ ہے ”جس میں وہ تجھے سچا سمجھے۔اگر بھائی سچا سمجھ رہا ہے اور وہ بات نہ ہو تب یہ جھوٹا بنتا ہے اور اگر بھائی جھوٹا ہی سمجھ رہا ہے تو یہ مسئلہ ہی اور ہے۔دنیا میں اکثر سچوں کو جھوٹا ہی کہا گیا ہے اور ان کو جھوٹا ہی سمجھا جاتا ہے اس لئے یہ مسئلہ بالکل اور ہے اس لئے سچا سمجھنے والی بحث ہے صرف۔