خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 634 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 634

خطبات طاہر جلد 17 634 خطبہ جمعہ 11 ستمبر 1998ء سے سودا کر و ٹھیک ہوتا تھا۔تو حقیقی احمدی معاشرہ تو وہ ہے اس کے بنے میں دیر لگے یا بنانے میں دیر لگے جہاں تک نظام جماعت کا تعلق ہے وہ جو اس کو چلانے کے ذمہ دار ہیں ان کا فرض ہے کہ مسلسل کوشش کرتے رہیں۔یہ آخری نقطہ ہے جس تک ہم نے لازماً پہنچنا ہے کیونکہ اگر : صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا الحکم جلد 5 نمبر 45 صفحہ:4 مؤرخہ 10 دسمبر 1901ء) پر عمل کرنا ہے ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس اعتماد کو اپنی ذات میں پورا کرنا ہے کہ جب مجھے پالیا تو صحابہ سے مل گیا تو پھر اس معاشرہ کی تخلیق کرنی ہے اس معاشرہ کی تعمیر کرنی ہے اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ محنت تو بہت کرنی پڑے گی مگر ہو جائے گا انشاء اللہ۔اگر ہم یہ کرسکیں تو ساری دنیا کے لئے نمونہ بن جائیں گے۔آج یہ نمونہ کہیں ہے ہی نہیں۔تلاش کر کے دیکھ لیں سب دھو کے، سب جھوٹ ہیں۔میں نے ایک مثال شاید پاکستان کی پہلے بھی بیان کی تھی جب یہ ایٹم بم کا دھما کہ ہوا تو اتنا جوش تھا پاکستانیوں کے دل میں اپنے وطن کی محبت کا کہ جب ایک آواز دی وطن سے کسی نے یعنی وزیر مال نے یا خود وزیر اعظم نے کہ اپنا روپیہ یہاں بھجواؤ ہمیں ڈالرز کی ضرورت ہے، ہمیں پونڈوں کی ضرورت ہے اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ جو روپیہ تم پونڈوں میں یا ڈالرز میں بھجواؤ گے تم جب چاہو گے تمہیں پونڈوں اور ڈالرز میں مل جائے گا اور جب وعدہ کیا تو خیانت کی اور اب کل ایک بینک والے مجھے ملنے آئے تھے وہ کہہ رہے تھے بینک خالی پڑے ہیں ، کچھ بھی نہیں رہا۔میں افسر ہوں۔ایک زمانہ میں جب ریل پیل تھی بیرونی روپے کی تو اتنا کاروبار تھا کہ رات کو بھی ختم نہیں ہوتا تھا اور مجھے مجبوراًلمبا وقت بینک میں لگانا پڑتا تھا۔کہتے ہیں اب خالی کرسیاں ہیں کوئی آنے والا نہیں، اکیلے بیٹھ کے بمشکل بینک کا وقت گزارتا ہوں کیونکہ اس وقت میں حاضری دینی ضروری ہے مگر خالی خولی ، خالی لفافہ کچھ بھی باقی نہیں رہا۔یہ جزا ہے خائن کی اور یہ لوگ سمجھتے نہیں۔اگر یہ امانت کا حق ادا کرتے تو اتنی کثرت سے پاکستانی قوم نے جو باہر پھیلی پڑی ہے اتنارو پیہ بھیجنا تھا کہ کسی قسم کی کوئی کمی آرہی نہیں سکتی تھی ، ناممکن تھا۔اب اس کا بداثر یہ ہے کہ اندرونی تجارتیں تباہ ہوگئی ہیں ساری، مہنگائی کا جو دور شروع ہوا ہے روپے کی قیمت گرتی چلی جارہی ہے بیرونی کرنسی کی بڑھتی چلی جارہی ہے۔