خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 633 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 633

خطبات طاہر جلد 17 633 خطبہ جمعہ 11 ستمبر 1998ء یہ صحیح بخاری کتاب الرقاق سے روایت لی گئی ہے، آخر پر کہتے ہیں کہ : مجھ پر ایک زمانہ ایسا آیا کہ میں تم میں سے کسی کے ساتھ بھی لین دین کے معاملہ میں پروا نہیں کرتا تھا۔“ یعنی رسول اللہ صلی للہ یہ تم کا زمانہ خلفائے راشدین کا وہ زمانہ جس میں اسلامی نظام فی الحقیقت جاری تھا۔فرماتے ہیں: مجھ پر ایک ایسا زمانہ آیا کہ میں تم میں سے کسی کے ساتھ بھی لین دین کے معاملہ میں پروا نہیں کیا کرتا تھا ، مجھے چھان بین کی ضرورت ہی کوئی نہیں تھی۔اگر وہ مسلمان ہوتا تو اسلام اس سے میرا حق دلوا دیتا۔“ یعنی جو اسلام نافذ تھا اُس وقت وہ حقیقی اسلام تھا، رسول اللہ سلیم کا اسلام تھا جس میں خائن کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔تو اگر وہ مسلمان ہوتا تو اسلام اس سے میرا حق دلوادیتا۔اگر وہ عیسائی ہوتا یا کوئی اور تو حکمران اس سے میرا حق دلوا دیتے۔کیونکہ حکمران مسلمان تھے۔کہتے ہیں پرواہی نہیں ہوئی، کبھی کوئی پیسہ ضائع نہیں گیا۔جب بھی سودا کیا کامل یقین کے ساتھ کہ ایک ایسے معاشرہ میں سودے کر رہا ہوں جہاں حاکم مسلمان ہیں اور اسلام کی رو سے فیصلے کرتے ہیں۔مگر آج تو میں صرف فلاں شخص سے لین دین کر سکتا ہوں اور فلاں شخص سے۔“ 66 (صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب رفع الامانة ،حدیث نمبر :6497) اشارے کر کے بتایا کہ بہت دور دور پھیلے پڑے ہیں یہ لوگ کیونکہ اب حکومت بھی وہ نہیں رہی جو اسلام کے تقاضے پورے کرنے والی ہو اور مجھے بہت احتیاط کرنی پڑتی ہے ،سودے کے لئے ڈھونڈنا پڑتا ہے، شاذ شاذ کے طور پر ایسے آدمی ملتے ہیں۔تو جماعت احمدیہ میں تو یہ نہیں ہونا چاہئے۔ہم تو دعویٰ کرتے ہیں وَاخَرِينَ مِنْهُمُ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِم ( الجمعة : 4 ) کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اخَرِينَ میں سے ہیں لیکن ان سے وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو رسول اللہ سی ایم کے صحابہ سے ملا دے گا۔تو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان تو یہ ہے کہ اس وقت کہیں شاذ شاذ آدمی کی تلاش نہیں رہا کرتی تھی ، جس