خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 629 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 629

خطبات طاہر جلد 17 629 خطبہ جمعہ 11 ستمبر 1998ء سے سودا کرتے ہی نہ۔ان کے اپنے مفادات وابستہ ہوتے ہیں اس سودے سے جو ناجائز ہوتا ہے۔مثلاً ایسی شرطوں پر ایسے خائن لوگ رقمیں مہیا کرتے ہیں یا کرنے کا وعدہ کرتے ہیں کہ اس کے ساتھ دراصل سودی شرائط ہوتی ہیں اور دئے ہوئے پیسے کے بدلے بہت پیسے کی توقع رکھتے ہیں۔تو بعد میں جب وہ شکوہ کرتے ہیں تو بھول جاتے ہیں کہ خود بھی خائن ہی تھے۔اگر وہ خائن نہ ہوتے تو خائنوں سے سودے کرتے ہی نہ اور وہ شخص جو خائن نہ ہو وہ پوری احتیاط کیا کرتا ہے۔وہ ایسے لوگوں سے سودا کرتا ہے جو اللہ اور رسول کی امانت ادا کرنے والے ہوں اور پھر اگر ان کے سوا کسی سے سودا کرنا پڑے تو وہ ان سے پورے کا روباری تحفظات حاصل کرتا ہے۔پھر کسی شکایت کا سوال نہیں پھر دُنیا کی عدالتیں اس کو آپ پکڑیں گی اگر تحفظات کا خیال رکھا جائے۔تو اس پہلو پر غور کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ جماعت میں سے ایسے خائنوں کو علیحدہ کرنا ممکن ہے اور واضح ہے یعنی وہ جو خیانت کے نام پر سودا کرتے ہیں یا خائن سے سودا کرتے ہیں دونوں ہی خائن ہیں۔جب ان کی شرائط دیکھی جائیں تو صاف پتا چل جاتا ہے کہ سودا کرنے والا بھی خائن ہے۔چنانچہ میں نے بارہا تجربہ کیا ہے۔ایک شخص نے یہ شکایت کی کہ میرے ساتھ ظلم ہو گیا، دھوکا ہو گیا، جو ر تم کہی گئی تھی وہ ادا نہیں کی گئی۔جب میں نے شرائط منگوائیں تو پتا چلا کہ وہ شرائط ہی سود کی تھیں۔تو جو شخص خود اتنا خائن ہو کہ سودی شرائط پر اپنا روپیہ لگانے پر محض اس لئے آمادگی ظاہر کرے کہ اسے زیادہ پیسے مل رہے ہیں جود نیا کے بینک کے دوسرے سودی کاروبار کرنے والے کبھی کبھی نہیں دے سکتے تو یہ لوگ ہیں جن پر کڑی نظر رکھنی ضروری ہے۔میری پوری کوشش ہے کہ ہمارا معاشرہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاک اور صاف ہو جائے اور اندرونی جھگڑے اور ایک دوسرے پرشکوے شکایات ختم ہوں کیونکہ اندرونی جھگڑے اور شکوے شکایات وحدت کے رستے میں روک پیدا کرتے ہیں۔وَ تَخُونُوا آمَنتِكُم وَاَنْتُمْ تَعْلَمُونَ ایسی صورت میں تم اپنی امانتوں میں خیانت کرو گے۔وَ انْتُمْ تَعْلَمُونَ۔اس تعلمون کا ایک بہت لطیف معنی یہ ہے کہ خائن کو پتا ہوتا ہے کہ میں خیانت کر رہا ہوں۔یہ ہو نہیں سکتا کہ خائن خیانت کرے اور بعد میں لاعلمی کا اظہار کرے۔خیانت ایک ایسی چیز ہے جو انسانی فطرت میں ودیعت ہی نہیں کی گئی اور یہی بات ہے جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی لہ کی ہم نے ہم پر خوب کھولی ہے کہ خیانت انسانی فطرت میں ودیعت