خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 52
خطبات طاہر جلد 17 52 خطبہ جمعہ 16 جنوری 1998ء پس جو احمدی اس وقت مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں اور ہر وقت اپنی حفاظت کی صرف فکر کر رہے ہیں ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ سر وہ نہیں ہے۔ حفاظت کا ستر یہ نہیں ہے کہ اپنی حفاظت کی صرف فکر کریں۔ اپنی حفاظت کے لئے مناسب تدابیر اختیار کرنا کرنا یہ یہ عام عام لوگوں کے کے ۔ لئے جائز ہے اور بعض دفعہ ضروری بھی ہو جاتا ہے کیونکہ اس میں قومی فوائد ہوتے ہیں لیکن جب مصائب آ پڑیں اس وقت اپنی فکر نہ کرنا یہ سنت نبوی صلی ا لیتی ہے۔ یہ دو الگ الگ باتیں ہیں جن کو آپ کو پیش نظر رکھنا چاہئے ورنہ مضمون بگڑ جائے گا۔ رسول اللہ صلی السلام نے کبھی بھی خطرات کی تلاش نہیں کی تاکہ ان میں چھلانگ لگا ئیں ۔ جب خطرات درپیش ہوئے تو پھر ان میں چھلانگ لگانے سے رکے نہیں ۔ یہ دو بالکل الگ الگ باتیں ہیں۔ آنحضرت صلی السلام نے کبھی بھی اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالا، ہلاکت کی تلاش نہیں کی۔ ایسے مواقع سے بچے ہیں جن سے بے وجہ خطرہ در پیش ہو لیکن جب خدا کی خاطر خطرہ آن پڑا جس سے مفر کا سوال نہیں رہا اس خطرے کو مفر کے ذریعہ نہیں ٹالا بلکہ دوڑ کر اس خطرہ میں داخل ہو گئے جو خدا کی خاطر آپ پر آپڑا ہے۔ پس یہ مضمون ہے جو خصوصیت کے ساتھ آج کل پاکستان کی احمدی جماعتوں کو پیش نظر رکھنا چاہئے ۔ بے وجہ خطرات کو پیدا نہ کریں کیونکہ یہ حماقت ہے۔ پرواه یہ اللہ کے فرمان کے خلاف بات ہے۔ ہر احتیاط کے باوجود جب خطرہ پڑ جائے تو کوڑی کی بھی ۔ نہ کریں اور پھر ایسے خطرات سے جنہوں نے خدا کی خاطر پڑنا ہے ان سے نہ بھاگیں ۔ اگر ان سے بھاگیں گے تو یہ آپ کی حفاظت کی ضمانت نہیں ہوگی ۔ اگر کہیں گے کہ ہاں اس خطرہ کو اب ہم قبول کرتے ہیں جو کچھ بھی ہو، ہو جائے اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا وَ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ کیونکہ جو بات خدا تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفی صلی اسلام کے حق میں فرمائی ہے وہی آپ صلی السلام کے متبعین اور عاجز بندوں کے حق میں بھی کام کرتی ہے۔ یہ سنت نبوی صلی یتیم ہے جو ہمیں ہر حال میں بچائے گی، ہر حال میں ہماری حفاظت فرمائے گی اور ہم پر سایہ فگن رہے گی۔ پس سنت نبوی سالی تا السلام کے تابع چلیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے زندگی کے سب مراحل آسان ہو جائیں گے۔ فرمایا: (حضرت) ابراہیم علیہ السلام کے قصہ پر غور کرو کہ جو آگ میں گرنا چاہتے ہیں تو ان کو خدا آگ سے بچاتا ہے۔“ ( البدر جلد 1 نمبر 7 صفحہ : 53 مؤرخہ 12 دسمبر 1902ء)