خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 623 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 623

خطبات طاہر جلد 17 623 خطبہ جمعہ 4 ستمبر 1998ء تو وہ امانت جس کے ذریعہ اس امانت کے نقوش سمجھنے میں مددملنی تھی وہ بیرونی نمونے ایسا انسان سمجھ ہی نہیں سکتا تھا جس کے دل میں امانت موجود نہ ہو۔پس فطرت کی امانت ایک امانت ہے۔اور دوسری امانت وہ ہے جو آنحضرت صلی ہم پر قرآن کی صورت پر نازل ہوئی اور تیسری امانت وہ ہے جو آنحضرت صلی ال ایتم نے خدا تعالیٰ کی امانت کا حق ادا کرتے ہوئے قرآن پر عمل کر کے دکھا دیا۔یہ دو باتیں ایسی ہیں جو اسی کو سمجھ آسکتی ہیں جس کے دل میں امانت کی جڑ ہو۔اگر دل سے امانت مٹ چکی ہو تو اسے بیرونی اثرات سے کچھ فائدہ نہیں ہو گا۔چنانچہ اس تفصیل کے ساتھ اب یہ دیکھیں۔فرمایا : امانت لوگوں کے دل کی جڑیا تہہ میں اتری ہے پھر انہوں نے اسے قرآن وسنت کے مطابق پایا۔“ پہچان لیا قرآن اور سنت کے ذریعہ، ورنہ محض اپنے دل میں ڈوب کراس امانت کے نقوش کو اچھی طرح پہچانا ہر کس و ناکس کے لئے ممکن ہی نہیں تھا۔جو لوگ اپنے خیال میں دلوں میں ڈوبتے ہیں اور حقائق تک پہنچتے ہیں ان کے آپسی اختلاف بتاتے ہیں کہ کوئی ایک بھی حقیقت پر قائم نہیں تھا۔ایک نے کچھ اور حقیقت سمجھی ، دوسرے نے کچھ اور حقیقت سمجھی۔پس اصل وہ ہے کہ اگر قرآن اور سنت کے مطابق تمہارے دل کی آواز ہو جائے یا دل کی آواز کے مطابق تم قرآن وسنت کی باتیں سنو تو یہ حقیقت ہے، اس میں شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔فرمایا: پھر انہوں نے اسے قرآن وسنت کے مطابق پایا۔اور آپ صلی پریتم نے ہم سے اس کے رفع ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔“ یعنی دوسری حدیث جس میں رسول اللہ صلی شمالی تم نے امانت کے رفع ہونے کا ذکر فرمایا ہے۔پہلی حدیث میں امانت کی کنہہ بتائی ہے، امانت ہوتی کیا ہے۔دوسری حدیث میں ہے وہ رفع کیسے ہوگی یہ ذکر چھیڑا ہے۔انسان غفلت کی حالت میں زندگی بسر کرے گا یہاں تک کہ امانت اس کے دل سے 66 اٹھالی جائے گی۔“ اس میں لفظ نومۃ استعمال ہوا ہے اور بعض لوگ سمجھتے ہیں یعنی ترجمہ کرنے والے بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ایک رات سوئے گا اور اٹھے گا تو امانت اٹھ چکی ہوگی۔یہ نہیں ہوا کرتا۔یہ اللہ کی سنت کے خلاف ہے۔