خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 613
خطبات طاہر جلد 17 613 خطبہ جمعہ 4 ستمبر 1998ء اب یہ ایک بہت ہی لطیف نصیحت ہے جسے بہت سے لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں اور میرے تجربہ میں ایسے لوگ آئے ہیں جنہوں نے جب اس بات کو نظر انداز کیا تو ان کی خساست خود ان کے نفس کے خلاف غالب آگئی۔اور بہت سے مراتب سے وہ محروم رہ گئے۔پس حضرت رسول اللہ صلی لے لی ہم جس بار یک نظر سے چیزوں کا مطالعہ فرماتے ہیں اور ہمارے سامنے کھول کھول کر رکھتے ہیں انہیں سمجھنے کے بعد غور کرنا چاہئے کہ کیا فرمانا چاہتے ہیں حالانکہ لوگوں کا عام خیال ہے کہ جس کو حکم دیا جاتا ہے وہ کرتا ہے وہ اس کے لئے صدقہ جاریہ کیسے ہو گیا۔ایک آدمی کو آپ جو حکم دیتے ہیں وہ کرتا ہی ہے لیکن پوری بشاشت اور خوش دلی کے ساتھ ایسا کرے یہ ایک زائد شرط ہے۔بعض لوگ جب یہ سنتے ہیں کہ فلاں شخص کو کچھ رقم دلوا دو تو ان کے نزدیک وہ شخص حق دار نہیں ہوتا اور میرے نزدیک حق دار ہوتا ہے۔میرے نزدیک حق کے پیمانے مختلف ہیں۔بعض لوگ محض دلجوئی کی خاطر مدد دئے جاتے ہیں ، بعض لوگ اس مدد کے نتیجہ میں دین کے زیادہ قریب آجاتے ہیں۔مؤلفۃ القلوب کا بھی تو ایک مضمون ہے مگر جو لوگ باریکی سے ان باتوں کو نہیں دیکھتے وہ سمجھتے ہیں کہ میرا فیصلہ ہی غلط تھا یہ آدمی کس طرح لائق ہو گیا کہ اس کو جماعت کی طرف سے مدد دی جائے۔اور پھر ان کو یہ بھی نہیں پتا ہوتا کہ وہ مدد جماعت کی طرف سے دی جارہی ہے یا میری ذاتی طرف سے دی جارہی ہے یا کسی ایسے فنڈ سے دی جارہی ہے جس کا جماعت کے حساب میں کوئی ذکر بھی نہیں۔ان سارے امور سے لا تعلقی کے نتیجہ میں وہ اپنی جگہ معاملہ فہم بن کر فیصلہ کر دیتے ہیں۔چنانچہ ایسے ہی ایک شخص کے متعلق مجھے بہت افسوس ہوا کہ میں نے اس کو کہا کہ فلاں شخص کو یہ رقم دے دو۔اس نے اپنی جیب سے نہیں دینی تھی ، رقم اسے مہیا کر دی گئی تھی لیکن مدتوں ٹالتا رہا نہیں دی۔آخر جب کمیشن بیٹھا اور جواب طلبی کی گئی تو یہ جواب دیا کہ یہ تو حق دار ہی نہیں ہے۔کمیشن نے کہا تم زیادہ جانتے ہو یا خلیفہ وقت جانتا ہے جس نے رقم مہیا کی۔اگر اس نے بے وقوفی کی ہے تو وہ خدا کو جوابدہ ہے تم نے تو حکم مانا تھا۔پس رسول اللہ صلی ا یہ تم نے یہ شرط لگائی پوری بشاشت اور خوش دلی کے ساتھ اس کا حق سمجھتے ہوئے دیتا ہے۔جس کا حق آنحضرت صلی ا یہ ہم نے قائم فرما دیا یا بالا عہد یدار، امیر نے مثلاً قائم کر دیا تو نچلے عہدیداروں کا ہر گز یہ کام نہیں ہے کہ اس میں روک بن جائیں اور اپنی خساست اس صدقہ کی راہ میں حائل کر دیں، اپنی کنجوسی کو صدقہ کا رستہ روک دینے والا بنا دیں۔اگر ایسا کریں گے تو وہ بھٹکتے بھٹکتے کہیں اور پہنچ سکتے ہیں۔