خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 50
خطبات طاہر جلد 17 50 خطبہ جمعہ 16 جنوری 1998ء تم میری مشقت سے بھاگتے تھے اب اپنا حال دیکھو کہ کیسی کیسی مشقتوں میں ڈالے جارہے ہو۔یہ دستور اللہ تعالیٰ کا جماعت احمدیہ سے ہمیشہ سے واضح ہے اور ہمیشہ سے صاف دکھائی دیتا ہے اور بہت سے لوگ ان مشقتوں کو دیکھنے کے بعد پھر گھبرا کر واپس لوٹتے ہیں۔پس مشقتوں میں ڈالنا بے سبب بھی نہیں، محض سزا نہیں بلکہ تو بہ کے لئے توجہ کو مبذول کرانے والی بات ہے۔بکثرت میں ایسے دوستوں کو جانتا ہوں جنہوں نے چندوں میں سہولت حاصل کرنے کے لئے نفس کے بہانے بنائے، قربانیوں میں سہولت حاصل کرنے کے لئے نفس کے بہانے بنائے اور بہت سے امور میں نفس کے بہانے بنائے یہاں تک کہ ان کی زندگیاں مشقتوں سے لد گئیں۔اتنی مشقتیں آپڑیں کہ انہوں نے گھیراؤ کر لیا اور ان کی کمریں دوہری ہو گئیں پھر ایک دن ان کی آنکھ کھلی اور یہی مشقتیں ان کے لئے رحمت کا موجب بن گئیں۔انہوں نے اچانک سوچا کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔یہ زندگی تو بالکل بے کار ہوتی چلی جارہی ہے۔مصیبتوں سے ہم بچ نہیں رہے بلکہ مصیبتیں سپیرا رہے ہیں اور جب انہوں نے وعدہ کیا کہ آئندہ سے ہم اپنے نفس کے لئے کوئی بہانہ نہیں بنائیں گے ان کی زندگی کی کایا پلٹ گئی اور کثرت سے ایسے ہیں جنہوں نے پھر مجھے لکھا کہ ان حالات میں ہم نے مشقت ٹالنے کی کوشش کی تھی لیکن مشقت کو ٹال نہیں سکے۔اب جب خدا کی خاطر مشقت قبول کرنے کے لئے آگے بڑھے ہیں تو مشقت آگے آگے بھاگ رہی ہے۔وہ چیز جس کو ہم مشقت سمجھتے تھے وہ مشقت تھی ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ ان راہوں کو خود آسان فرما دیتا ہے اور کتنے بدنصیب ہیں جو اس بات کو جانتے نہیں، اس سے سبق حاصل نہیں کرتے۔خدا کی خاطر مشقتوں سے بھاگیں گے تو مشقتیں آپ کے پیچھے پڑ جائیں گی۔پس آج کے رمضان میں یہ عہد کریں کہ ایسا نہیں کریں گے۔خدا کی خاطر مشقتوں کو Chase کریں گے یعنی خدا نے واقعہ جو مشقتیں مقرر فرمائی ہیں ان کو حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو آپ دیکھیں گے کہ وہ مشقت تھی ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی آسانی کے لئے ، آپ کی بھلائی کے لئے ایک مشکل راہ تجویز فرمائی جس کو وہ خود آسان کرتا ہے اور کوئی راہ مشکل نہیں رہتی۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: جو خود مشقت میں پڑتے ہیں ان کو وہ آپ نکالتا ہے۔( یہی بات ہے جو میں آپ کے سامنے عرض کر رہا ہوں ) انسان کو واجب ہے کہ اپنے نفس پر آپ شفقت نہ کرے بلکہ