خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 607 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 607

خطبات طاہر جلد 17 607 خطبہ جمعہ 28 اگست 1998ء پھر فرمایا جس میں کسی کا مال ناحق دبانے کا منصوبہ ہو۔اور یہ منصوبے بھی اس کثرت سے بنتے ہیں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔پاکستان کے حالات کا تو ہمیں علم ہوتا رہتا ہے، اخبارات میں آتے رہتے ہیں اور لوگ بھی لکھتے رہتے ہیں۔وہاں تو ایک دوسرے کا مال دبانے کا منصوبہ ایک روزمرہ کا دستور بن چکا ہے۔اس منصوبہ میں جو انصاف کرنے والے ادارے ہیں ان کو بھی شامل کیا جاتا ہے اور مجھے تو آئے دن ایسی احمدیوں کی چٹھیاں ملتی رہتی ہیں کہ ہم اس میں بالکل بے قصور پکڑے گئے ہیں۔جو کا غذات بنائے گئے ہیں سارے جعلی ہیں اور جب شکایت کرو تو جن کے پاس شکایت کی جاتی ہے انہوں نے بھی اپنا حصہ بیچ میں ڈالا ہوتا ہے۔اب کس کے پاس شکایت کریں، کسے منصف بنا ئیں، یہ ہوہی نہیں سکتا کیونکہ سارا معاشرہ بگڑ چکا ہے۔اور اگر یہ بات ہو کہ جب بھی ، جہاں بھی ایسا منصوبہ بنے وہ ایسے لوگوں تک پہنچایا جائے جو اس کا ازالہ کر سکتے ہوں تو شروع میں ضرور کچھ نہ کچھ منصف تو ہوتے ہی ہیں معاشرہ میں۔آج کل جو معاملہ ہے حد سے زیادہ بگڑ چکا ہے میں اس کی بات نہیں کر رہا۔مگر اگر آغاز ہی سے حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی یا یتیم کی اس نصیحت کو پیش نظر رکھا جاتا تو ممکن ہی نہیں تھا کہ یہ معاملہ آگے بڑھ جاتا۔پس یہ ایک ہی حدیث جو چودہ سو سال پہلے کی نصیحت ہے تمام ملکوں کے معاشرہ کو درست کرنے کے لئے کافی ہے۔حیرت انگیز نصیحت ہے لیکن چونکہ ابھی وقت ختم ہورہا ہے اور اس مضمون میں اور بھی بہت سی باتیں کرنے والی ہیں جو انشاء اللہ میں اگلے خطبہ تک اٹھا رکھتا ہوں اور اب اسی پر آپ سے اجازت چاہوں گا۔انشاء اللہ اگلا خطبہ انگلستان میں ہوگا۔وہاں جا کر اسی مضمون کے بعض دوسرے پہلو آپ کے سامنے پیش کروں گا۔پس میں اُمید رکھتا ہوں کہ جرمنی سے اب مجھے مزید خیانت کی وہ شکایتیں نہیں ملیں گی جن کی تفصیل میں نے آپ پر کھول دی ہے۔امیر صاحب جرمنی کی ایک اور ذمہ داری ہے اس پہلو سے نظر رکھیں۔