خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 606
خطبات طاہر جلد 17 606 خطبہ جمعہ 28 اگست 1998ء 66 جاتے ہیں اور اگر کوئی شخص بتا دے تو اس کو بھی قتل کر دیا جاتا ہے یعنی کوشش کی جاتی ہے کہ اس کو بھی قتل کر دیں۔کراچی میں جو حقیقی غیر حقیقی کے قصے چل رہے ہیں ان کی تفصیل میں تو میں نہیں جاسکتا لیکن اتنا پتا ہے کہ وہ لوگ جو منصوبہ بناتے ہیں کسی کو قتل کرنے کا خواہ وہ مہاجرین کی طرف سے ہو یا حکومت کی ایجنسیوں کی طرف سے ہو یا ہندوستان یا غیر ملکوں کی طرف سے ہو اس تفصیل میں میں نہیں جانا چاہتا مگر اتنا مجھے علم ہے کہ جب اس منصوبے کا انکشاف کر دیا جائے حکومت کے اوپر یا انصاف قائم رکھنے والے اداروں پر تو اکثر ان کا بدلہ اتارا جاتا ہے اور ان کو قتل کی دھمکی دی جاتی ہے یا قتل کر دیا جاتا ہے۔تو یہ وہ ایک معاملہ ہے جس کے متعلق رسول اللہ صلی شما یہ تم نے چودہ سو سال پہلے متنبہ فرما دیا تھا کہ اگر خون ناحق کا منصوبہ ہے تو یا درکھنا تمہاری امانت کا تقاضا یہ ہے کہ متعلقہ عہد یداروں تک ضرور بات کو پہنچاؤ۔وہاں امانت کا مفہوم بدل گیا۔اگر یہ بات نہیں پہنچاؤ گے تو تم امین نہیں ہو گے، پھر تم نے خیانت کی جس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر ایسی مجلس ہو تو پیشتر اس کے کہ بات آگے بڑھے فوراً انسان اٹھ کر آ جائے۔اگر ڈرپوک ہے یا سمجھتا ہے کہ میرے حالات اجازت نہیں دیتے کہ میں یہ خطرہ مول لوں تو بہتر یہ ہے کہ اس مجلس سے یہ کہہ کر جدا ہو جائے کہ مجھ پر اعتبار نہ کرو کیونکہ اگر ایسی بات تم نے کی اور مجھے اس منصوبہ کا علم ہو گیا تو مجھ سے بات نکل جائے گی۔یہ کہہ کر وہ اپنی جان بچا سکتا ہے اور اپنی امانت بھی بچا سکتا ہے۔تو وہ لوگ جو روز مرہ آج کل پاکستان میں ان مسائل کا شکار ہیں ان کے لئے یہ نصیحت ہے کہ بہتر یہ ہے کہ اپنی کمزوری کی وجہ سے اپنی جان بچائیں اور اپنا ایمان بچا ئیں لیکن اگر آپ اس منصوبہ میں بیٹھے رہے تو پھر خواہ کوئی بھی قیمت دینی پڑے خواہ جان کی قیمت دینی پڑے امانت کا مضمون یہ ہے کہ امانت ادا کرو اور بے ایمان کے راز کو راز نہ سمجھو، وہ دوسروں تک پہنچاؤ یعنی حکومت یا ان ذمہ دار آدمیوں تک پہنچاؤ جو اس کا ازالہ کر سکتے ہیں۔دوسری چیز ہے بدکاری کا منصوبہ۔اب یہ منصوبے بھی بہت بن رہے ہیں۔ہر ملک میں بنتے ہوں گے لیکن بعض ممالک میں باقیوں سے زیادہ بنتے ہیں یہاں تک کہ بعض دفعہ پولیس بھی ان منصوبوں میں شامل ہوتی ہے۔مل کر کئی لوگوں کے ساتھ بدکاری کا منصوبہ بنایا جاتا ہے اور آئے دن پکڑے بھی جاتے ہیں اور بہت ہیں جو نہیں بھی پکڑے جاتے۔رسول اللہ صلی ایتم نے فرمایا کہ اس منصوبہ کا اگر علم ہو جائے تو لازم ہے کہ متعلقہ عہد یداروں تک اس بات کو پہنچا دو ورنہ تم خائن ہو گے۔تو بات کر دینا امانت کی علامت ہے اور بات کو روک لینا خیانت کی علامت ہے۔