خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 605
خطبات طاہر جلد 17 605 خطبہ جمعہ 28 اگست 1998ء عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: الْمَجَالِسُ بِالْأَمَانَةِ إِلَّا ثَلَاثَةَ فَجَالِسَ : سَفْكُ دَمٍ حَرَامٍ، أَوْ فَرْجُ حَرَامٌ، أَوْ اقْتِطَاعُ مَالٍ بِغَيْرِ حَقٍ “ (سنن أبی داؤد، کتاب الأدب، باب في نقل الحديث ،حدیث نمبر : 4869) اس کا ترجمہ یہ ہے کہ مجالس امانت ہیں جو باتیں اس میں کہی جائیں گی وہ آخری بات جس شکل میں بھی کی گئی ہے آپ اس کے امین بن گئے ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بات اتنی ہی کہیں جو آگے کہنی ہے لیکن اس کے ساتھ بعض مجالس میں یہ شرط ہوتی ہے کہ یہ راز کی بات ہے اور جب یہ شرط ہو جائے تو خواہ وہ بات اتنی ہی ہو جو آپ سے کی گئی ہے آپ آگے کہنے کے مجاز نہیں رہتے۔یہ بھی امانت کا ایک پہلو ہے۔بعض دفعہ امانتیں رکھوائی جاتی ہیں اس شرط کے ساتھ کہ کسی کو بتا نہیں۔چنانچہ کئی لوگ ہیں وہ اس طرح امانت رکھ جاتے ہیں کہ کسی کو پتا نہ چلے ، بعض امانتیں میرے پاس بھی ایسی رکھوائی گئیں جس میں بیویوں نے کہا ہمارے خاوند کو نہ پتا چلے کہ یہ ہم نے امانت رکھوائی ہے کیونکہ اس سے خاوندوں کے دل میں بدظنی پیدا ہو سکتی تھی۔بعض دفعہ عورتوں نے بے چاریوں نے اپنی محنت کر کے کوئی مال کمایا ہوتا ہے اور مجھے علم ہوتا ہے کہ دیانت دار عورتیں ہیں۔اگر وہ خاوند کو پتا چل جائے کہ انہوں نے کما کے رکھا تھا اور مجھ سے چھپا کے رکھا ہے تو بعض خاوند دوسروں کے مال پر بڑے شیر ہوتے ہیں۔وہ پھر غصہ کرتے ہیں کہ تم نے یہ بات یہ چیز کیوں مجھ سے چھپائی اور اکثر عورتیں ہیں جو رکھنا چاہتی ہیں تا کہ آئندہ کسی نیک موقع پر خرچ کر سکیں۔تو میں بھی پوری تحقیق کے بعد پھر امانت رکھ لیتا ہوں اور کبھی ان کے خاوندوں کو ہوا تک نہیں لگنے دی کہ ان کی بیوی نے یہ امانت رکھوائی ہے۔پس امانت کے یہ سارے مضامین ہیں جو حضرت رسول اللہ صلی للہ سلیم نے بیان فرما دئے ہیں کوئی پہلو بھی باقی نہیں چھوڑا۔فرمایا ایسی صورت میں امین ہو جاؤ گے تم ، تم نے وہ بات آگے نہیں کرنی، کسی صورت میں نہیں کرنی سوائے تین قسم کی مجالس کے۔ان میں تم امین نہیں رہے بلکہ امانت کا مضمون ہی بدل گیا۔اگر ان باتوں کو بیان نہیں کرو گے تو پھر امین نہیں ہو گے۔اگر بیان کرو گے اور متعلقہ آدمیوں تک بیان کرو گے تو امین نہیں کرو گے تو غیر امین ، یعنی خائن سمجھے جاؤ گے۔یہ وہ مضمون ہے جس میں فرمایا کہ سوائے تین مجالس کے ناحق خون بہانے پر مشورہ ہو ، اب بے شمار ایسے واقعات بدقسمتی سے ہمارے ملک پاکستان ہی میں ہو رہے ہیں جہاں خونِ ناحق بہانے کے مشورے کئے