خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 599
خطبات طاہر جلد 17 599 خطبہ جمعہ 28 اگست 1998ء نے ہمیں اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا۔کب کہا ہے مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے کہ تم جھوٹ بولو۔کب کہا ہے کہ امانتوں میں خیانت کرو، کب کہا ہے کہ دوسروں کے حق مارو۔پس با تیں ہمیشہ سچی کہیں اور وہی کہیں جو نبی کہتے ہیں، اور ہوں جھوٹے! یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ مقصد کیا ہے ایک دعوی کرنے کا جب نیک لوگ بنائے جار ہے ہوں اور بدی کے خلاف جہاد شروع ہو گیا ہو ایسا شخص جو اتنا عظیم کام ہاتھ میں لیتا ہے وہ خدا کی طرف جھوٹ کیسے گھڑ سکتا ہے۔اس لئے ہر قل کی بات بہت گہری ہے اور حیرت کی بات ہے کہ ہر قل کو خدا تعالیٰ نے اتنی سمجھ عطا فرمائی تھی اور یہی وجہ تھی کہ اس نے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی للہ ایم کی سچائی کو پہچان لیا۔ایک حدیث ام سلمہ کی روایت ہے جو سنن الترمذی سے لی گئی ہے عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: المُسْتَشَارُ مُؤْتَمَن “ (سنن الترمذي، أبواب الأدب عن رسول الله باب أن المستشار مؤتمن ،حدیث نمبر :2823) ام سلمہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی یا یہ تم نے فرمایا: "المُسْتَشَارُ مُؤْتَمَن یعنی جس سے مشورہ کیا جاتا ہے وہ امین ہوتا ہے۔اب یہ چھوٹی سی حدیث ہے لیکن بہت گہری باتیں اس میں بیان ہوگئی ہیں۔آپ لوگ روز مرہ کسی مسئلہ میں ایک دوسرے سے مشورہ کرتے ہیں لیکن جس سے مشورہ کیا جائے وہ ضروری نہیں کہ آپ کو سچا مشورہ ہی دے اور بسا اوقات مشورہ کے دوران وہ اپنے چھپے ہوئے مقاصد کو پیش نظر رکھ کر مشورہ دیتا ہے حالانکہ جس سے مشورہ مانگا جائے وہ امین ہونا چاہئے اس کے اوپر اعتماد کیا گیا ہے، مؤتمن ہے وہ ، اور جس پر اعتماد کیا جائے اس کو مشورہ ہمیشہ درست دینا چاہئے۔چنانچہ روز مرہ کی زندگی میں آپ دیکھیں کہ یہ انسانی زندگی کی اصلاح کے لئے کتنی ضروری نصیحت ہے۔جماعت احمدیہ کا نظام بھی مشورہ پر مبنی ہے اور روزمرہ ہر انسان مشورہ کا محتاج ہے لیکن بسا اوقات جب مشورہ کیا جاتا ہے تو مشورہ دینے والا انسان غور نہیں کرتا کہ اس مشورہ میں کچھ میری نیت بھی داخل ہے اور خواہ وہ نیت اچھی ہی ہو مگر جب مشورہ مانگا جائے تو اس اچھی بات کو مشورہ میں شامل کرنا بد دیانتی ہوتی ہے۔اب یہ بات بظاہر عجیب ہے اور متضاد ہے لیکن میں آپ کے سامنے اپنے تجربہ سے کھول دیتا ہوں۔بعض دفعہ میں پوچھتا ہوں کہ فلاں جگہ جانے کے لئے کتنا وقت درکار ہے، کون سا راسته مناسب ہے؟ کوئی شخص جو یہ چاہتا ہو کہ میں اس کے گھر بھی آؤں وہ اپنے گھر والا رستہ