خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 591
خطبات طاہر جلد 17 591 خطبہ جمعہ 21 اگست 1998ء اٹھاتے ہیں مگر یہ مراد نہیں کہ بچے کو مجبور کر کے اس گھاٹ میں غرق کر دیا جائے جہاں وہ اپنے ہوش اور حواس کے ساتھ کبھی بھی غرق ہونا پسند نہ کرے۔پس ایثار لازم ہے اور اس کے بغیر آپ کو مزید ترقیات نصیب نہیں ہوسکتیں مگر ایثار کو اپنی زندگی کا ایک لازمی حصہ بنالیں گویا وہ آپ کی سرشت ہو جائے اور اس سرشت کے ساتھ آپ کو تمام جرمن قوم سے تعلق رکھنا چاہئے اور تمام ان قوموں سے تعلق رکھنا چاہئے جو اس ملک میں آکر آباد ہوئی ہیں۔یہ ایثار ہی ہے جو آپ کے رستے صاف کرے گا۔ایثار کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ آپ کو غیر قوموں کے دلوں میں گھر کرنے کی توفیق بخشے گا، ان کو اپنانے کی توفیق بخشے گا۔وہ جو بے گھر ہیں ان کو گھر مہیا کرنے کی توفیق بخشے گا مگر اپنی عزت اور احترام کی قربانی کے بغیر۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ آپ کی جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو ایثار کے بہت نمونے دکھا رہی ہے ایسے نمونے کہ ان کے متعلق سوچ کر بعض دفعہ میرے دل سے آنسوؤں میں بھیگی ہوئی دعا ئیں اٹھتی ہیں۔میں جب تصور کرتا ہوں تو عش عش کر اٹھتا ہوں۔سبحان اللہ، اللہ نے کیسے کیسے پیارے وجود قائم کئے ہیں اور واقعہ ان کے ایثار کے تصور سے میری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں کیونکہ یہ غبار دل سے اٹھ رہے ہوتے ہیں۔اور کبھی ایک دن بھی ، ایک رات بھی ایسی نہیں گزری جب میں نے آپ کو ، خصوصاً جرمنی کی جماعت کو ان کے ایثار کی وجہ سے اپنی دعا میں یاد نہ رکھا ہو۔ایک رات بھی ایسی نہیں گزرتی۔مختلف حالتیں ہیں۔کبھی سکون کے ساتھ وہ باتیں اللہ کے حضور عرض کرتا ہوں کہ ان بندوں کا خیال رکھ وہ تیری خاطر یہ قربانی کر رہے ہیں پھر ان سے بیقرار ہو کر اپنا چین کھو دیتا ہوں مگر آپ کو یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ اس ایثار کو چمٹے رہیں ، اس کو اپنی فطرت ثانیہ بنالیں اور اسی ایثار کے ساتھ سب قوموں کے ساتھ سلوک کریں کیونکہ میں اُمید رکھتا ہوں کہ یہ ایثار انشاء اللہ جرمنی کے اندر رہنے والے جرمنوں اور غیر قوموں کے دل بدل دیں گے اور احمدیت کے لئے ان کے دلوں کی راہیں صاف ہو جائیں گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔