خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 590
خطبات طاہر جلد 17 590 خطبہ جمعہ 21 اگست 1998ء۔رکھتے ہوئے اپنے گھروں میں مہمانی کیا کریں کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ گھر کا مہمان آ گیا ہے بیوی بچوں سے پردہ ہی اتار دیا جائے وہ بے تکلفی سے جہاں چاہے پھرے۔وہ کہتے ہیں کہ ہمارا گھر آپ کا گھر ہے اب آپ ہمارے گھر میں اس طرح رہیں جیسے اپنے گھر میں رہتے ہیں۔اس کی وہ مثال جو میں نے بیان کی تھی وہ درست مثال ہے۔بعض لوگ جو چاہتے ہیں کہ اپنا گھر سمجھ کر کوئی رہے وہ گھر ہی خالی کر دیتے ہیں۔وہ یہ نہیں کیا کرتے کہ اپنے نفوس کے ساتھ آنے والے نفوس کو اس طرح ملا جلا دیں کہ ان کی حرمت کا احساس باقی رہے نہ اپنی حرمت کا احساس باقی رہے۔اس قسم کے ایثار کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیوثی قرار دیا ہے کیونکہ بات کھولنے کا وقت نہیں نہ یہ مناسب ہوگا کہ اتنی بڑی مجلس میں جہاں خواتین بھی سن رہی ہوں یہ باتیں کھول کھول کر بیان کی جائیں مگر اس کے نتیجہ میں اس کو جس کو آپ ایثار سمجھ رہے ہونگے اس کے نتیجہ میں اپنی جان ، اپنی عزت اور خدا کی رضا کو تلف کر رہے ہونگے۔تو ایثار تو بندے میں تب زیب دیتا ہے کہ وہ خدا کے قریب کر رہا ہو۔اگر خدا سے دور کر رہا ہو تو اسے کون احمق ایثار قرار دے گا۔پس اپنے معاشرے کی حفاظت کریں اور جرمنی کے ماحول میں یہ حفاظت آپ سے ہمہ گیر تقاضے کرتی ہے، ہمہ وقت تقاضے کرتی ہے۔اور اسی نصیحت کے ساتھ اب میں چند منٹ تک اس خطبہ کو ختم کروں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ جو لمبی عبارت ہے اس میں سے یہ آخری حصہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔فرماتے ہیں کہ ایثار سے مراد محض نفس کو تکلیف میں ڈالنا ہرگز نہیں ہے۔تکلیف میں اس صورت میں ڈالنا کہ اس سے بہتر فوائد حاصل ہوں اور ادنیٰ چیز قربان کر کے اعلیٰ چیز حاصل کر رہے ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ اگر صرف تکلیف میں ڈالنا، ایک خیال کے پیچھے تکلیف میں ڈالنا حقیقی ایثار ہوتا تو پھر ایسے ہندو بھی ملتے ہیں جو بتوں کے سامنے کھڑے کھڑے اپنے باز و یا ٹانگیں سکھا لیتے ہیں یا بتوں کی خاطر اپنے بچوں کو قربان کر دیتے ہیں، زندہ بچوں کو گنگا میں بہا دیتے ہیں مگر یہ حق تلفی ہے۔یہ ایثار نہیں ہے کیونکہ ایثار کے نتیجہ میں آپ کو زیادہ سے زیادہ یہ حق ملتا ہے کہ آپ تکلیف اٹھا ئیں کسی کو خوش کرنے کے لئے کسی دوسرے نفس پر آپ کو ہر گز اختیار نہیں ہے کہ اس کو ز بر دستی تکلیف پہنچائیں تاکہ کوئی اور آپ سے خوش ہو جائے۔یہ فرق ہے جو ہندو فلسفہ میں اور مسلمان فلسفہ میں ہے۔ورنہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہم سب قربانی جب کرتے ہیں تو بچے بھی تکلیف