خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 584
خطبات طاہر جلد 17 584 خطبہ جمعہ 21 اگست 1998ء میں سے ایک دو پہلو جو جلسے سے تعلق رکھتے ہیں وہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔سب سے پہلے یہ کہ اپنے وقت کو قربان کرنا ایثار ہے، اپنے مال کو قربان کرنا ایثار ہے ، اپنی سہولتوں کو دوسرے کی خاطر قربان کر دینا یہ بھی ایثار ہے اور اس جرمنی کے جلسہ میں ہمیں ایثار کے یہ تینوں پہلو ہر طرف دکھائی دے رہے ہیں۔باہر سے آنے والے مہمانوں کا جس اہتمام کے ساتھ جماعت جرمنی کو خیال رکھنے کی توفیق ملتی ہے کم ہی آپ کو یہ نظارے دوسری جماعتوں میں دکھائی دیں گے ضرور ایسی جماعتیں ہیں جن میں ایثار کے یہی جذبے کام کرتے ہیں، بعض پہلوؤں سے شاید زیادہ بھی ہوں لیکن یہ بات جرمنی میں جس کثرت سے پھیلی ہوئی ہے اس کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ایک تنہا آپ دُنیا میں وہ جماعت ہیں جہاں بیس ہزار سے زائد، کم سے کم میرا اندازہ ہے، ہمیں ہزار سے زائد افراد مر دعورتیں اور بچے جرمنی کے جلسہ کے دنوں میں مسلسل ایثار سے کام لے رہے ہوتے ہیں۔بعض ماؤں کو اپنے بچوں کی ہوش نہیں رہتی اور بچے بھی اس وجہ سے صبر کرتے ہیں کہ جلسہ کے دن ہیں اور انہیں یہ تکلیف ساتھ اٹھانی چاہئے تو اگر بچوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو تیس ہزار بھی کم ہوگا اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ میں سے خدا تعالیٰ تیس ہزار افرادکو مختلف پہلوؤں سے ایثار کی توفیق بخشتا ہے۔ایثار کے تعلق میں چند باتیں میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ ایثار ایک طبعی حالت کا نام ہے اور وقتی ضرورت کا نام نہیں ہے۔سچا ایثار جو قائم رہتا ہے ، باقی رہتا ہے اور ہمیشہ آپ کو خدا کے قریب کر سکتا ہے اور کرتا رہتا ہے وہ طبیعت اور مزاج میں مٹی ہونا ہے۔اگر مزاج مٹی ہو چکا ہو ، اگر طبیعت میں تکبر کا کوئی شائبہ تک باقی نہ رہے تو ایسے انسان کا ایثار ایک دائی ایثار ہو جاتا ہے لیکن اس کے اظہار پھر اس کی دوسری زندگی میں بھی دکھائی دیتے ہیں۔صرف جلسہ کہ موقعوں پر مہمانوں کے تعلق میں نہیں بلکہ روز مرہ کے ہر انسانی سلوک میں یہ ایثار کا اظہار ہوتا ہے۔آج کل میں جانتا ہوں بعض لوگوں نے اپنے گھر کلیہ خالی کر دئے ہیں تا کہ وہ مہمان جو پسند نہیں کرتے کہ ان کے ساتھ ان کے گھروں میں دوسرے لوگ بھی ٹھہرے ہوں ان کو پوری طرح بے تکلفی میسر ہو اور آرام سے وہ جتنے دن چاہیں ، جس طرح چاہیں ان کے گھر کی چیزیں استعمال کریں۔ایسے گھر کثرت سے میرے علم میں ہیں لیکن جو ایثار میں بتا رہا ہوں ، جس کی میں بات کر رہا ہوں وہ مزاج کا وہ انکسار ہے جو باقی رہنا چاہیئے اور ساری زندگی اس کو آپ کا ساتھ دینا چاہئے۔اس ایثار کے نتیجہ میں جب بھی کوئی