خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 577 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 577

خطبات طاہر جلد 17 577 خطبہ جمعہ 21 اگست 1998ء کر سکتا کیونکہ میں نظر بھر کر آپ سی ایم کو بھی نہیں دیکھ سکا۔اگر میں اسی حالت میں فوت ہو جاتا (یعنی رسول اللہ صلی شیتم کی زندگی میں جب کہ میرے عشق کا یہ عالم تھا) تو مجھے اُمید تھی کہ میں جنتیوں میں سے ہوتا۔“ (صحيح مسلم، کتاب الأيمان، باب كون الاسلام يهدم ما قبله وكذا الهجرة والحج،حدیث نمبر :321) اب یہ وجہ ہے۔جب نزع کی حالت میں آپ نے منہ پھیرا اور روتے رہے آپ کو اپنے انجام کی یہ فکر تھی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام سے عداوت اور بغض کی حالت سے تو نکال لیا اور مجھ سے وعدہ بھی ہوا کہ جو اس حالت سے نکل جائے اس سے بخشش کا سلوک ہو گا لیکن جو بعد میں زندہ رہا ہوں اس دور میں مجھ سے خدا جانے کیا کیا غلطیاں سرزد ہوتی رہی ہیں۔اگر میں اُس زمانہ میں مرجاتا تو اچھا تھا۔یہی صدمہ تھا جو آپ کو نڈھال کئے جار ہا تھا اور نزع کی حالت کے یہی خیالات تھے جو آپ کو تنگ کر رہے تھے۔ایک اور روایت سنن ابی داؤد سے لی گئی ہے۔اسامہ بن شریک بیان کرتے ہیں کہ : میں آنحضرت صلی ای یتیم کی خدمت میں حاضر ہوا۔“ اب یہ ایک نظارہ ہے جو اسامہ نے دیکھا کہ صحابہ رضوان اللہ علیھم کی اس وقت کیا حالت ہوا کرتی تھی جب حضور اکرم صلی یتیم آپ میں تشریف فرما ہوتے تھے۔صحابہ یوں ساکت بیٹھے تھے گویا ان کے سروں پر پرندے ہوں۔“ یعنی جیسے سر پر پرندہ ہو اور بولنے سے اڑنے کا خطرہ ہوتا ہے انسان حرکت بھی نہیں کرتا، اسی طرح صحابہ ساکت و صامت بیٹھے تھے۔چنانچہ میں نے سلام عرض کیا پھر بیٹھ گیا۔ادھر ادھر سے بدوی لوگ مجلس میں آنے لگے۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی له ایام کیا ہم دوائیوں کا استعمال کیا کریں؟ اس پر فرمایا دوائیاں ضرور استعمال کیا کرو کیونکہ اللہ عز وجل نے کوئی بیماری نہیں بنائی مگر اس کا علاج بھی پیدا فرمایا ہے سوائے ایک بیماری کے جو بڑھاپا ہے، وہ مقدر ہے۔“ (سنن أبی داؤد، کتاب الطب، باب الرجل يتداوی ،حدیث نمبر :3855)