خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 576
خطبات طاہر جلد 17 576 خطبہ جمعہ 21 اگست 1998ء چنانچہ حضرت عمرو بن العاص کی خدمت میں یہ ابن شماسہ حاضر ہوئے جب کہ وہ نزع کی حالت میں تھے۔آپ کافی دیر تک روتے رہے اور منہ دیوار کی طرف پھیر لیا۔آپ کے صاحبزادہ نے کہا اے میرے پیارے باپ کیا! آنحضرت سلیم نے آپ کو فلاں فلاں بشارتیں نہیں دیں۔راوی کہتے ہیں اس پر حضرت عمرو بن العاص نے منہ ہماری طرف کیا اور کہنے لگے سب سے بہتر جس چیز کی ہم تیاری کر سکتے ہیں وہ تو یہ شہادت دینا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد لیا تم اللہ کے رسول ہیں۔اس کے بعد فرمایا مجھ پر تین حالتیں آئیں۔ایک وہ حالت جب میں سب سے زیادہ آنحضرت سی شاہی تم سے بغض رکھتا تھا اور یہ بھی پسند نہیں کرتا تھا کہ آنحضرت صلی کیا یہ ستم کے 66 چہرے پر نظر ڈالوں۔“ یعنی بغض کی اتنی انتہا تھی کہ شدت نفرت سے اس چہرہ کو دیکھنا گوارانہیں کرتے تھے۔صرف خواہش تھی کہ بس چلے تو میں اس کو قتل کر دوں۔کہتے ہیں : اگر اس حالت میں میں مرجاتا تو یقینا جہنمیوں میں سے ہوتا۔پھر جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو میرے دل میں ڈال دیا تو میں آنحضرتملالی کی ستم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ ہاتھ بڑھائیے میں آپ صلی ا یتیم کی بیعت کرنا چاہتا ہوں۔حضور اکرم صل للہ الیہ تم نے ہاتھ بڑھایا تو میں نے مضبوطی سے آپ صلی ان کا ہاتھ تھام لیا۔آنحضرت علی ہستم فرمانے لگے عمرو! کیا بات ہے۔کیوں اتنا مضبوطی سے ہاتھ پکڑ رکھا ہے؟ میں نے عرض کیا میں آپ صلی للہ یہ تم سے ایک وعدہ لینا چاہتا ہوں۔فرمایا کیا وعدہ لینا چاہتے ہو۔میں نے عرض کیا یہ کہ میرے گناہ بخش دئے جائیں۔حضور صلی للہ یہ تم نے فرمایا کیا تجھے معلوم نہیں کہ اسلام لانے کے بعد اس سے پہلے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔اسی طرح ہجرت اور حج کے بعد بھی ان سے پہلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔اس وقت میری نظر میں آنحضور صلی تم سے زیادہ محبوب اور زیادہ معزز کوئی اور شخص نہ تھا لیکن آپ مسی ایتم کی عظمت اور رعب کی وجہ سے آنکھ بھر کر آپ مسی یا نیلم کو دیکھ نہ سکتا تھا۔اگر مجھ سے حضور انور کے حلیہ مبارک کے بارے میں پوچھا جائے تو میں بیان نہیں