خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 575
خطبات طاہر جلد 17 575 خطبہ جمعہ 21 اگست 1998ء کی حدود کے اندر رہتے ہوئے بھی ایک انسان آنحضور علیہ اپی لیم اور آپ سی ایم کے صحابہ کی سنت کی پیروی کر سکتا ہے اور اسی طرح اپنے مزاج کی حدود کے اندر رہتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عشق کا حق بھی ادا کر سکتا ہے اور مختلف مزاج کے لوگوں کی حدود مختلف ہیں، ہر مزاج کا آدمی اپنی حدود کے اندر رہے اور ان حدود کے اندر اسے توفیق ملے گی کہ وہ اپنے عشق کا اظہار اس نسبت سے کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو صلاحیتیں بخشی ہیں۔سب سے پہلے میں نے جو ٹکٹکی والی حدیث ہے وہ سامنے رکھی ہے ، جو حضور اکرم صلیا کی تم نا پسند فرماتے تھے۔الادب المفرد للبخاری میں مجاہد بیان کرتے ہیں کہ : آنحضرت صلی ا تم اس امر کو نا پسند فرماتے تھے کہ کوئی اپنے بھائی کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا رہے۔“ جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے یہ کٹکی باندھنے کا مضمون صرف رسول اللہ صلی یا یہ تم سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے وہ دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے رہتے ہیں اور یہ گھورنے کی عادت نہایت معیوب ہے۔آنحضور صلی ا یہ تم اس عادت سے سخت کراہت فرماتے تھے۔چنانچہ حضور صلی لا الہ سلم فرماتے ہیں: دو ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا رہے اور جب وہ اس کے پاس سے جائے تو اس کی نظریں اس کا پیچھا کرتی رہیں۔“ الأدب المفرد للبخارى باب لا يحد الرجل ألى اخيه النظر أذا ولى ، حدیث نمبر : 771) یہ وہ مضمون ہے جو میرے اس خطبہ پر حاوی رہے گا اور جو وقت بچے گا اس میں میں انشاء اللہ بعض دوسرے امور یعنی ایثار سے تعلق رکھنے والے امور بیان کروں گا۔حضرت ابن شماسه المهری بیان کرتے ہیں کہ : ہم حضرت عمرو بن العاص کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ وہ نزع کی حالت میں تھے۔“ یہ میں نے روایت کئی دفعہ بیان کی ہے مگر ہے بہت ہی پیاری روایت ، ان معنوں میں کہ ایک صحابی کی مختلف حالتوں کا ذکر ہے اور ایک صحابی کے عشق کے انداز کا ذکر ہے جو باقی صحابہ سے مختلف تھا لیکن اس اختلاف کے باوجود ان کا ایک اپنا رنگ تھا جسے انہوں نے آخر تک پکڑے رکھا گو بعد میں پچھتائے کہ میں نے کیوں آنحضور سیلی سیلم کی زندگی میں آپ صلی ما پس تم کو نظر بھر کے نہیں دیکھا۔