خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 574
خطبات طاہر جلد 17 574 خطبہ جمعہ 21 اگست 1998ء میں امام بنایا گیا ہو اور اسی طرح اس مضمون کا تعلق میں سمجھتا ہوں درجہ بدرجہ ان تمام ائمہ سے بھی ہے جو مساجد میں آنحضرت صلی شما یہ تم کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے امامت کرتے ہیں اور گھر کے بڑوں سے بھی تعلق ہے۔تو یہ مضمون سلسلہ وار آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔اگر چہ یہ سارے التزامات آنحضور صلی یہ ہیم کے بعد دوسروں کے لئے بعینہ اس طرح نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ حضور اکرم سلیم کو جو امتیاز بخشا گیا ہے وہ اپنی جگہ ایک ایسا امتیاز ہے جس میں کوئی شریک نہیں ہوسکتا مگر کچھ نہ کچھ درجہ بدرجہ اس سے دوسرے بھی حصہ پاتے ہیں اور ہمارے زمانہ میں سب سے زیادہ حصہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پایا کیونکہ اس دور میں آپ ہی نے آنحضور صلی اینم کی نیابت کا حق ادا کیا۔یہ اس مضمون کی اہمیت ہے جس کے پیش نظر میں اب مزید تفصیل بیان کرتا ہوں۔میں نے گزشتہ خطبہ میں یہ عرض کیا تھا کہ بعض لوگ ٹکٹکی لگا کے مجھے دیکھتے ہیں یعنی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر، جو میرے لئے الجھن کا موجب بنتا ہے۔پس دیکھیں اور دیکھنا بات کرتے وقت ضروری ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ آنکھوں میں ٹکٹکی لگا کر اس طرح دیکھا جائے گویا انسان اندر تک اتر رہا ہے۔یہ صرف چند لوگوں کو عادت ہوتی ہے اور انہی کے پیش نظر میں نے اُس خطبہ میں یہ ذکر کیا تھا مگر بعد میں جب میں نے دیکھا تو عجیب حال پایا۔تمام وہ مخلصین جو ہمیشہ سے اعتدال اختیار کیا کرتے ہیں ان سب بے چاروں کی آنکھیں، میں نے اس طرح جھکی ہوئی دیکھیں کہ سر بھی جھک گیا اور آتے جاتے وہ دیکھ کر مجھے گھبراہٹ ہوتی تھی کہ ہو کیا رہا ہے۔ہر ایک نے بڑے ادب سے پوری طرح سر جھکا کر زمین پر نظریں گاڑی ہوئی تھیں۔نہ مجھے آتے دیکھتے تھے نہ جاتے دیکھتے تھے اور نتیجہ یہ نکلا کہ میں حیران رہ گیا یہ کیا ہو رہا ہے۔بعد میں مجھے سمجھ آئی کہ دراصل اُس خطبہ کا غلط تاثر قائم کیا گیا ہے اور میں نے مناسب سمجھا اور اُن سے وعدہ بھی کیا کہ جرمنی کی جماعت میں جا کر اس مضمون کے دوسرے پہلو بھی بیان کروں گا اور حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی الیتیم کے زمانہ میں جو معاشرہ قائم تھا اور اس میں ہر قسم کی طبیعت کے لوگ تھے ان کا بھی ذکر کروں گا اور اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں آکر جو معاشرہ قائم ہوا اور مختلف مزاج کے لوگ تھے ان کا بھی ذکر کروں گا اور یہ بھی سمجھاؤں گا کہ ان آیات سے جو پڑھی گئی ہیں یا ان روایات سے جو بیان کی جائیں گی ہرگز یہ مراد نہیں کہ انسان اپنے بنیادی مزاج کو تکلف سے بدلے۔اپنے مزاج