خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 562 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 562

خطبات طاہر جلد 17 562 خطبہ جمعہ 14 اگست 1998ء مراد ہے کیونکہ پہلوں کو حکم دیتے ہوئے اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرما سکتا تھا وَ اسْتَعِينُوا بالصبر والصلوة - اگر پہلی آیت میں پہلی قوموں کا ذکر ہوتا تو ان کو ان کی خرابی کی طرف متوجہ کر کے معا یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اسے گزری ہوئی قو مو! وَ اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوۃ۔تو میرے نزدیک لازماً یہاں حضرت محمد مصطفی سال یا الیتیم کے غلام مراد ہیں۔آتا مُرُونَ النَّاسَ بِالْبِر میں یہ مراد نہیں ہے کہ تم ایسا کرتے ہو۔مراد یہ ہے کہ تمہارے سپرد یہ کام کیا گیا ہے۔تم تو امتوں کی اصلاح کے لئے، ان کو برائیوں سے روکنے کے لئے نکالے گئے ہو کیا ایسا کرو گے؟ یعنی “ کا جو سوال ہے یہ ان معنوں میں آتا ہے کہ کیا تم یہ کرو گے کہ لوگوں کو تو نیکی کی نصیحت کر رہے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاؤ ؟ ہرگز ایسا نہیں کرنا۔وَ اَنْتُمْ تَتْلُونَ الكتب تم الكتب یعنی قرآن کریم کا مطالعہ کرنے والی قوم ہو۔تم سے ہر گز یہ توقع نہیں۔اَفَلَا تَعْقِلُونَ پس کیا تم عقل نہیں کرو گے؟ یا کیا تم عقل نہیں کرتے ؟ تو یہ سوال ہے ایک احتمال کے بیان کے طور پر جسے رڈ کرنا مقصود ہے اور اگلی آیت بعینہ اس کے مطابق ہے۔یہ جو کام تمہارے سپر د کیا گیا ہے بنی نوع انسان کی اصلاح ، ان کو نیکی کا حکم دینا اور اپنے آپ کو نیکیوں پر قائم رکھنا یہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے سوا ممکن نہیں۔اس کے لئے لازم ہے کہ وَاسْتَعِينُوا بالصبر والصلوۃ تو اللہ سے صبر اور صلوۃ کے ذریعہ سے مدد مانگو۔الصلوة کا معنی دعا بھی ہے اور الصلوۃ کا معنی روز مرہ کی نماز جو ہم پڑھتے ہیں وہ بھی ہے۔تو دونوں معنے اس میں آجائیں گے۔وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوۃ لازم ہے کہ نماز کی باقاعدگی اختیار کرو اور نمازوں میں بھی اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے رہو کہ تم کبھی دوغلے نہ بنو، خدا کی نظر میں تم منافق نہ ٹھہرو اور صبر کے ساتھ اور عام چلتے پھرتے دعاؤں کے ساتھ خدا سے مدد مانگتے رہو۔وَ إِنَّهَا لَكَبِيرَةُ إلا عَلَى الْخشِعِينَ اگر یہ بات بہت بھاری ہے لوگوں پر ، صبر کی تلقین میں اللہ سے مدد مانگنا یہ بھی بھاری ہے۔اب جس چیز کے لئے مددمانگ رہے ہیں وہ چیز ہی بھاری ہو جائے تو کیسے توفیق ملے گی۔تو دراصل جو مدد مانگی جارہی ہے اس میں یہ توفیق بھی شامل ہے کہ ہمیں یہ مدد مانگنے کی بھی توفیق عطا فر مالیکن ایک شرط رکھ دی ہے وہ لازم ہے۔بہت بوجھل ہوگا یہ حکم مگر ان لوگوں کے لئے جو خاک بہ سر ہوں، ان کا نفس مارا ہوا ہو، وہ زمین پر بچھے رہنے والے ہوں، ان کے لئے معاملہ بوجھل نہیں ہو گا۔اس لئے بوجھل نہیں ہوگا کہ جو زمین پر بیٹھا ہے اس نے تو بھیک مانگنی ہی ہے اور کیا کرے گا۔اب اکثر فقیر جو ہیں ان کو آپ