خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 556
خطبات طاہر جلد 17 556 خطبہ جمعہ 14 اگست 1998ء پہلی آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، یہ آیات اکثر نکاح کے موقعوں پر تلاوت کی جاتی ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور سیدھی بات کہو۔سیدھی بات کے متعلق میں پہلے بھی کئی دفعہ عرض کر چکا ہوں کہ سیدھی بات سچی بات سے زیادہ اعلیٰ درجہ کی بات ہے۔سچی بات کہنے کے نتیجے میں بھی بعض دفعہ غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔سیدھی بات کرنے کا عادی پوری کوشش کرتا ہے کہ بات اس طرح کرے کہ سچی بھی ہو اور اس سے کوئی غلط فہمی بھی پیدا نہ ہو۔جو اس کے دل کا منشاء ہے وہ پوری طرح کھل کر ظاہر ہو جائے۔يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ کیونکہ سیدھی بات سے اصلاح اعمال کا بہت گہرا تعلق ہے۔ایک بات تم کرو دوسری بات اللہ نے اپنے ذمہ لے لی ہے۔يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ اگر سیدھی بات کو شیوہ بناؤ گے تو وہ ضرور تمہارے اعمال کی اصلاح فرما دے گا۔وَيَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبکم اور تمہارے گناہ جو اس سے پہلے سرزد ہو گئے ان کو معاف فرما دے گا۔وَ مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُوله اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول صلی سیستم کی اطاعت کرے پس اس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کر لی یعنی یہ سلسلہ آگے بڑھتا رہے گا ، اطاعت رسول سی ایم کی توفیق ملتی چلی جائے گی اور جوں جوں تم اطاعت کرو گے ساتھ ساتھ تم نیکی میں ترقی کرتے چلے جاؤ گے یہاں تک کہ اس کا کوئی منتہی نہیں سوائے اس کے کہ جب تمہیں موت آئے گی تو تم ایک کامیابی کی حالت میں مر رہے ہو گے، بہت بڑی کامیابی تمہیں نصیب ہوگی۔ان آیات سے متعلق پہلے میں آنحضرت صلی یا سیستم کی ایک حدیث پیش کرتا ہوں جو میرے نزدیک ان آیات سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔مسند احمد بن حنبل سے یہ حدیث لی گئی ہے عبد اللہ بن عامررضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: ”جب میں ابھی بچہ ہی تھا تو رسول اللہ مل ہی تم ہمارے گھر پر تشریف لائے۔میں کھیلنے کودنے کے لئے گھر سے باہر جانے لگا۔میری والدہ نے کہا اے عبداللہ ! جلد گھر چلے 66 آنا میں تجھے کچھ دوں گی۔“ اس لالچ میں کہ مجھے کچھ ملے گا ان کا خیال تھا کہ یہ کھیل کود میں دل لگانے کی بجائے دماغ گھر کی طرف رکھے گا اور جتنی جلدی اس کو توفیق ملے گی واپس آ جائے گا۔