خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 553
خطبات طاہر جلد 17 553 خطبہ جمعہ 7 اگست 1998ء توقع پر کہ وہ خطبہ سنیں گے تو پھر جائیں گے۔اس لئے آج انشاء اللہ نماز میں جمع ہی ہوں گی لیکن ایک دو دن مغرب اور عشاء کی نمازیں بھی جمع ہوں گی کیونکہ رات کے وقت، وقت تھوڑا ہوتا ہے اور اس وقت سفر کرنے والوں کے لئے وقت ہو جاتی ہے۔پس اس اعلان کے ساتھ اب میں اس خطبہ کو ختم کرتا ہوں۔میں اُمید رکھتا ہوں کہ ہمارے پاکستان جانے والے دوست اور پاکستان میں یہ خطبہ سننے والے دوست اس خطبہ کی روشنی میں عوام الناس کے علاوہ اپنے راہنماؤں کی تربیت کی بھی کوشش کریں گے۔ان کو بتائیں گے کہ اگر تم بلاؤں سے بچنا چاہتے ہو تو ایک ہی راہ ہے، سیدھے رستے پر آجاؤ اور وہ جو سیدھی راہ ہے وہ تمہارے دل میں نقش ہے۔کوئی انسان ایسا نہیں جو اپنی فطرت کی آواز سے راہنمائی حاصل نہ کرے۔جب بھی غلط راہنمائی ہوتی ہے تو غلط تقاضوں اور خود غرضی کے نتیجے میں غلط راہنمائی ہوتی ہے۔ہر شخص اپنے نفس میں آزادانہ ڈوب کر دیکھے، جو جواب فطرت کا ملے گا ہمیشہ صحیح ہو گا۔پس ہمارے سر براہوں کی یعنی پاکستان کے سر براہوں کی اور عوام الناس کی فطرت کو جھنجھوڑیں۔ان کو توجہ دلائیں کہ ہم پر کوئی احسان نہیں کر رہے تم نہ کر سکتے ہو۔یہ ہمارا احسان ہے جو تمہاری فطرت کو جھنجھوڑ رہے ہیں اگر یہ جاگ گئی تو قوم جاگی رہے گی۔اگر یہ سو گئی تو قوم ہمیشہ کی نیند سو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ اس سے ہمیں بچائے۔اس خطاب کے ساتھ جس میں ان آیات کے ذکر کا موقع ہی نہیں ملا انشاء اللہ اگلے خطبہ میں یہ مضمون شروع کروں گا یعنی وہ آیات جن کی میں نے تلاوت کی تھی اس مضمون کو آئندہ خطبہ میں آگے بڑھاؤں گا اور اب میں اجازت چاہتا ہوں۔