خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 551 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 551

خطبات طاہر جلد 17 551 خطبہ جمعہ 7 اگست 1998ء کا کام کسی قیمت پہ بھی نہیں رکنا چاہئے اور اس کے لئے فسادات کے احتمال کو پیش نظر رکھ کے نائجیر یا کی جماعت کو تبلیغ کا تفصیلی منصوبہ بنانا چاہئے۔اب جبکہ ہم ہزاروں سے لاکھوں اور لاکھوں سے کروڑوں میں داخل ہورہے ہیں تو یا درکھیں کہ پچاس لاکھ پر ہمارا قدم رکھنا نہیں ہے۔میں اُمید رکھتا ہوں اور پوری طرح ابھی سے میں اس بارہ میں منصوبے بنا کر جماعت کے سر براہوں سے جو مختلف ملکوں سے آئے ہیں گفتگو کر چکا ہوں۔ہرگز بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اگلی دفعہ ایک کروڑ ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور جب ہم ایک کروڑ ہو جائیں گے، جیسا کہ مجھے بھاری اُمید ہے ہم کوشش ضرور کریں گے انشاء اللہ ، تو اس صورت میں اگلے سال کے دو کروڑ نہ بھولیں۔اس طرح اگر یہ سلسلہ بڑھے تو چند سالوں میں تمام دنیا آنحضرت سی ایم کے قدموں کے نیچے ہوگی۔اور یہ منصوبہ وہ ہے کہ محض خوش فہمی پر مبنی نہیں ہے۔یہ قرآنی تعلیمات پر مبنی ہے اور ان تعلیمات پر عملدرآمد کے نتیجے میں جب ہم حکمت سے منصوبہ بناتے ہیں اور صبر سے اس کی پیروی کرتے ہیں اور دعا سے اللہ تعالیٰ سے مدد چاہتے ہیں تو یہ منصوبہ پھر اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں میں آجاتا ہے اور اب تک کا میرا یہی تجربہ ہے اس نے کبھی بھی ہمیں مایوس نہیں کیا۔تو اگر چہ آئندہ آنے والی اُمید میں دنیا کی نظر میں شیخ چلی کی خوا ہیں ہوں گی مگر میری نظر میں تو نہیں۔میں آپ کو یقین دلا رہا ہوں کہ شیخ چلی کی خوا ہیں اس کے معدے کی خرابی سے ہوا کرتی تھیں۔میری جو خوا ہیں ہیں وہ قرآن پر مبنی ہیں ، اللہ کے ارشادات پر مبنی ہیں۔ان دونوں خوابوں کے درمیان شَتّانِ بَيْنَهُمَا ، مشرق و مغرب بلکہ اس سے بھی زیادہ بعد ہے۔پس پہلے تو ایمان اور یقین دلوں میں پیدا کریں۔اگر آپ کو یقین ہی نہیں ہوگا کہ یہ باتیں ممکن ہیں تو یقین سے جو تو کل پیدا ہوتا ہے وہ بھی نہیں ہوگا۔کامل یقین اور اس کے نتیجے میں تو کل۔توکل کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ ذمہ داری خود قبول فرمالیتا ہے کہ میرے عاجز بے کس بندوں نے مجھ پر توکل کیا ہے تو میں ان کی تو قعات پوری نہیں کروں گا !!؟ پس یہ ہے منصوبہ جو آئندہ سال کے لئے میں نے ذہن نشین کر کے جو ہمارے متعلقہ عہد یداران تھے ان پر مجالس کے دوران کھول دیا ہے لیکن یہ باتیں ہوسکتا ہے وہ بھول جائیں۔اس لئے یہ خطبہ میں دے رہا ہوں تاکہ ساری جماعت کو پتا چل جائے کہ میں نے کیا باتیں کی تھیں اور وہ ان لوگوں کو بھولنے نہ دیں۔پس اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں ، جیسا کہ مجھے امید ہے، انشاء اللہ تعالیٰ اس کی