خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 550
خطبات طاہر جلد 17 550 خطبہ جمعہ 7 اگست 1998ء وہ بتا رہی ہیں کہ کیا واقعہ ہوا اور میری آواز کو کون سنے گا لیکن میں نے بتایا کہ میری آواز کو حاجی ابیولا کے مداح سن رہے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ کچھ ایسی خرابی ہوئی ہے جس پر ہم ہاتھ نہیں ڈال سکتے۔چنانچہ ان کی بات سچی نکلی اور وہاں فسادات شروع ہو گئے۔بڑے زور کے ساتھ گلیوں میں لوگ نکلے ہیں جنہوں نے اس چھان بین سے کلیہ عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے مگر یہ جوگیوں کی Violence ہے یہ بھی نائیجیریا کے مفاد کے خلاف ہے۔اس لئے بعض مسائل کا حل جو ہے وہ بعض نئے مسائل پیدا کرتا ہے۔نائیجیریا کے تعلق میں اگر چہ ہم با قاعدہ رابطہ رکھے ہوئے ہیں۔پوری کوشش یہی ہوگی اللہ کے فضل کے ساتھ کہ مسائل حل ہو جائیں اور نائیجیر یا ملک ایک ہو جائے مگر جو حالات نظر آ رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ یہ ہماری خواہش ابھی تک قابل عمل نہیں ہوئی کیونکہ حاجی ابیولا کے مداح جب حاجی ابیولا کی ان بتائی ہوئی باتوں پر عمل کریں گے جس میں مسلمانوں کے عروج کی باتیں تھیں تو لازماً عیسائی علاقوں کے خلاف ان کی منافرت بیدار ہوگی اور عیسائی علاقوں کو بیرونی دنیا کی فوجی حمایت حاصل ہے اور عیسائی علاقوں کو بیرونی دنیا کی سیاسی حمایت حاصل ہے۔پس حالات سدھرنے میں ، اگر خدا کرے سدھر جائیں، ابھی بہت وقت درکار ہے اور بہت محنت درکار ہے۔ہمارے نائیجیریا کے امیر صاحب یہ سن رہے ہیں یعنی اگر چہ ان کے کان میں میں ٹوٹی نہیں دیکھ رہا لیکن وہ میرے سر ہلانے کے ساتھ سر ہلا رہے ہیں میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ اس خطبہ کا ترجمہ بڑی توجہ سے سنیں۔انگریزی زبان میں اس کے بعد دوبارہ صحیح ترجمہ ہونا چاہئے۔ایک تو Running Translation ہے جیسے کنٹری ہوتی ہے لیکن یہ خطبہ ایسا ہے کہ جس کو تسلی۔ترجمہ کر کے متعلقہ لوگوں تک پہنچا ئیں۔پس میں اُمید رکھتا ہوں کہ وہ خطبہ کو غور سے سنیں گے اور اس کے نتیجے میں اپنے سیاسی اور جماعتی روابط کو از سر نو زندہ کریں گے۔جماعتی روابط میں ایک بات ان کو بھی اور دوسرے ملکوں کو بھی جہاں فسادات وغیرہ ہوتے رہتے ہیں بتانی بڑی ضروری ہے اور یہ ان کی سرخ کتاب میں درج ہونی چاہئے کہ جتنے مرضی فسادات ہوں ان کی موجودگی میں ہم نے لازماً آگے بڑھنا ہے اور نئے علاقے فتح کرنے ہیں تبلیغ کا کام فسادات کی وجہ سے رُکے گا نہیں۔فسادات کی روک تھام کے لئے ہم جو کوشش کریں گے اس سے ہمیں سہولت تو ہوگی لیکن لازم تو نہیں ہے کہ ہم کامیاب ہوں، یعنی روک تھام میں کامیاب ہو جائیں مگر اس کے نتیجے میں یعنی فسادات اگر ہوں تو تبلیغ