خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 44 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 44

خطبات طاہر جلد 17 44 خطبہ جمعہ 16 جنوری 1998ء فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُهُ (البقرة:186) یہ مضمون وہی ہے۔رمضان کو جو دیکھے وہ اس میں روزہ رکھے۔شھد کا مطلب ہے اپنی آنکھوں سے دیکھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ تشریح فرمائی ہے جس ملک میں انسان جاتا نہیں اور جس عالم سے واقف نہیں اس کے حالات کیا بیان کرے۔پس تم میں سے وہی ہے جو رمضان کو دیکھتا ہے، جو رمضان کو دیکھتا ان معنوں میں ہے کہ اس میں داخل ہو کر اپنی آنکھوں سے گواہی دے سکے، اپنے دل سے گواہی دے سکے یہ تو میرا ایسا ملک ہے جس میں میں جاچکا ہوں اور اس کے حالات کو جانتا ہوں۔وو روزہ اتنا ہی نہیں کہ اس میں انسان بھوکا پیاسار ہتا ہے بلکہ اس کی ایک حقیقت اور اس کا اثر ہے جو تجربہ سے معلوم ہوتا ہے۔انسانی فطرت میں ہے کہ جس قدر کم کھاتا ہے اسی قدر تزکیہ نفس ہوتا ہے اور کشفی قو تیں بڑھتی ہیں۔“ پس رمضان کے مہینہ میں کھانے میں زیادتی رمضان کا حق ادا نہیں کرتی بلکہ رفتہ رفتہ کھانے میں کمی رمضان کا حق ادا کرتی ہے۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ لوگ شروع میں تو بھوک نہیں لگتی ، اس وقت میں اس لئے نسبتا کم کھاتے ہیں اور جوں جوں رمضان آگے بڑھتا جاتا ہے وہ زیادہ کھانے لگتے ہیں یہاں تک کہ آخری دنوں میں تو رمضان ان کو پتلا کرنے کی بجائے موٹا کر جاتا ہے۔یہ جسم کی فربہی در اصل نفس کی فریبی بھی ہوسکتی ہے۔اس لئے عام طور پر بھولے پن میں ، لاعلمی میں لوگ ایسا کرتے ہیں مگر ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں تزکیہ نفس ہوتا ہے جو کم کھانے سے زیادہ ہوتا ہے، پس جتنا آپ کم کھانے کی طرف متوجہ ہوں گے اتنا ہی رمضان آپ کے لئے فائدہ بخش ہو گا اور کشفی قو تیں بڑھتی ہیں یعنی خدا تعالیٰ کو انسان مختلف صورتوں اور صفات میں دکھائی دینے لگتا ہے۔یہ کشفی قوتوں کا لفظ بہت با معنی تو ہے ہی مگر بہت اہمیت رکھتا ہے۔بعض لوگوں کو ویسے ہی دماغ کی خرابی سے یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہ کشف دیکھ رہے ہیں یا نیند کے غلبہ کی وجہ سے ان کو کچھ سمجھ نہیں آتی اور اپنے خیالات کو ہی کشف بنا لیتے ہیں۔رمضان میں کشوف کا جو کم کھانے سے تعلق ہے یہ بالکل اور چیز ہے۔اس کا نفسانی خواہشات اور اپنے دل کے خیالات سے کوئی بھی تعلق نہیں اور مضمون بتاتا ہے کہ وہ کشف حقیقی خدا تعالیٰ کی طرف سے تھا یا دل کا وہم تھا۔دل کے تو ہمات میں ربط کوئی نہیں ہوتا، دل کے تو ہمات میں ایسی سچائی اور پاکیزگی نہیں ہوتی جو انسان کو