خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 545 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 545

خطبات طاہر جلد 17 545 خطبہ جمعہ 7 اگست 1998ء کے لئے ،سونے کے لئے جگہ میسر آ جائے جو عموماً پٹرول پمپوں پھیل جاتی ہے وہاں تسلی سے سوئیں، آرام سے جب آنکھ کھلے اس وقت پھر دوبارہ سفر کا آغاز کریں۔تو مَالِ هَذَا الْكِتَبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلا احطها عجیب کتاب ہے اللہ کی ، نہ کوئی چھوٹی چیز چھوڑتی ہے نہ کوئی بڑی چیز چھوڑتی ہے مگر اس کو گھیرے میں لیا ہوا ہے، ہر ایک کو شمار کرتی ہے۔تو ہمیں اب اس ضمن میں بہت سفر کرنا ہے ، بہت آگے بڑھنا ہے۔اگر ہم اس تعلیم پر عمل کریں تو دنیا کے پردے پر ایک اور پہلو سے اپنا بے مثال ہونا ثابت کر سکتے ہیں کہ اس پہلو سے دُنیا میں بڑی سے بڑی قومیں بھی تنظیم کی یہ اعلیٰ شان پیش نہیں کر سکتیں جو قرآن کریم نے ہمیں سکھائی ہے اور اس پر عمل کرنے کے نتیجے میں ہمیں پیش کرنے کی توفیق ملی ہے۔اس کتاب کے متعلق جیسا کہ میں نے عرض کیا تھا میں آنے والے تمام مبلغین کو جو سر براہ ہیں یہ ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اپنے ملک میں ہونے والے واقعات پر بھی ایک کتاب بنا ئیں۔ان واقعات میں جو دنیاوی مسائل ہیں جن کے نتیجہ میں حادثات پیش آئے ان کو بھی پیش نظر رکھیں۔مثلاً سیرالیون کے متعلق مجھے خیال آیا کہ اس کی سرخ کتاب میں یہ باتیں بھی درج ہونی چاہئیں کہ جہاں جہاں فسادات ہوئے ہیں وہاں کن احمدیوں کو نقصان پہنچا ہے۔کیا پیش بندی ان کو کرنی چاہئے تھی جو نہیں کی اور اس کے نتیجے میں جو ان کو نقصان ہوا وہ ہمارا سب کا نقصان ہوا۔بہت سے ایسے احمدی تھے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جو بچائے جا سکتے تھے اور ان کا بچنا جماعت کے لئے بڑی تقویت کا موجب ہوتا۔بعض ایسے ایسے مخلصین وہاں شہید ہو گئے اور جماعت کے ہاتھ سے جاتے رہے کہ جو اپنی مثال آپ تھے۔انہوں نے بہادری کی ایک غلط تعریف کر لی۔وہ سمجھتے تھے کہ ہمارا جماعت سے وفا کا تقاضا ہے اور ہماری بہادری کا تقاضا ہے کہ جو کچھ ماحول میں ہوتا ہے ہوتا چلا جائے ہم نے اس مرکز کو نہیں چھوڑ نا جس پر ہمیں متعین کیا گیا ہے اور اپنی طرف سے وہ مثلاً ہسپتال ہیں ، مساجد ہیں، اس قسم کی دوسری عمارات ہیں ان کی حفاظت کر رہے ہیں۔جو حصہ حکمت کی کمزوری کا تھا وہ یہ تھا کہ وفاتو کی مگر اس وفا نے فائدہ کوئی نہ دیا، الٹا نقصان پہنچایا کیونکہ وہ اکیلی جان حملہ کے وقت ان چیزوں کی حفاظت کر کیسے سکتی تھی۔جب بھی ایسی جگہوں میں حملے ہوئے ہیں آگ لگانے والوں اور لوٹ مار کرنے والوں نے کسی آدمی کی موجودگی کا ادنی بھی لحاظ نہیں کیا۔ہاں اس آدمی کو جہاں تک ممکن