خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 540
خطبات طاہر جلد 17 540 خطبہ جمعہ 7 اگست 1998ء دوسری سرخ کتاب دُنیا میں جہاں جہاں احمدی جلسے ہوتے ہیں ہر ایک کے لئے رکھنی ضروری ہے اور مرکز کی طرف سے اس بات کی نگرانی کی جائے گی کہ کتاب رکھی جارہی ہے اور اس میں گزشتہ یادداشتوں کے مطابق اندراجات ہورہے ہیں۔اس ضمن میں افریقہ میں بڑھتی ہوئی تبلیغ اور اس کی ذمہ داریاں اور تعلیمی جو مدارس قائم کئے گئے ہیں اور چندے کا نظام قائم کیا جا رہا ہے ان تمام امور سے متعلق اندراجات ہو کر وہ نئے احمدی جن کی ہم تربیت کر رہے ہیں ان کے سپرد یہ کتاب ہونی چاہئے اور ان کو سمجھایا جائے کہ اس کتاب کی حفاظت کرنا تمہارا ذمہ ہے اور اسے رواج دینا اردگرد کے علاقہ میں ، یہ بھی تمہاری ذمہ داری ہے۔اس کے نتیجے میں بہت ہی احساس ذمہ داری پیدا ہوگا اور نئی جماعتوں کی تربیت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت کے ساتھ ہماری بہت سی مشکلات دور ہوجائیں گی۔اسی تعلق میں میں تمام ذیلی مجالس کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ بھی جائزہ لیں کہ ان کی کیا خرابیاں تھیں۔جب یہ سلسلہ شروع ہوا تو بعض حیرت انگیز باتیں سامنے آئیں جن کی طرف پہلے کوئی دھیان جاہی نہیں سکتا تھا۔ہمارے جلسے میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جو عمومی نصائح کی جاتی ہیں ان کے نتیجے میں جو احساس حفاظت ہے یعنی حفاظت کرنے کا احساس وہ عموماً جماعت میں بیدار ہوا ہے لیکن اس کے باوجود انتظامی خلا اتنے تھے کہ ان خلاؤں کے رستے کوئی چورا چکا، کوئی فتنہ پرداز آسانی سے داخل ہو سکتا تھا اور ہم نے اپنی طرف سے سارے رستے بند کر لئے تھے اور کچھ رستے کھلے تھے ان رستوں سے اگر کوئی داخل نہیں ہوا تو یہ اللہ ک حفاظت تھی اس میں ہمارے انتظام کا کوئی بھی کمال نہیں ور نہ ہر چورا چکا ، ظالم ، فسادی ان رستوں سے داخل ہوسکتا تھا۔اور اس جلسے کا بہت بڑا انعام یہ ہے کہ جب ہم نے نظر ثانی کی حالات پر تو سارے سوراخ کھلے کھلے دکھائی دینے لگے۔ان میں جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا نہ کوئی چھوٹی چیز باقی رہی نہ کوئی بڑی چیز باقی رہی۔بہت چھوٹی سی چیز کی مثال میں آپ کو دیتا ہوں کہ اکثر ہمارے ہاں جرمنی سے آنے والے بھی اور انگلستان سے آنے والے بھی یہ حرکت کیا کرتے تھے کہ اپنا کار کا گند ، اپنے بچوں کا گند باہر نکال کر پھینک دیتے تھے۔یہ ایسی بیہودہ حرکت تھی جس کے علاج کے طور پر ان کو سمجھایا گیا ، با قاعدہ اعلان ہوئے کہ تمہیں پلاسٹک کا تھیلا ہم مفت دے دیں گے لیکن خدا کے واسطے یہ حرکت نہ کرو اس کا بہت برا اثر پڑتا ہے۔